فرموداتِ مصلح موعود — Page 128
۱۲۸ نماز جنازہ لیکن شریعت کا فتویٰ ظاہری حالات کے مطابق ہوتا ہے اس لئے ہمیں اس کے متعلق بھی یہی کرنا چاہئے کہ اس کا جنازہ نہ پڑھیں۔(انوار العلوم جلد ۳۔انوار خلافت صفحه ۱۵۰ ۱۵۱) میراں بخش صاحب بوجہ غیر احمدی کولٹر کی دینے کے جماعت سے اخراج شدہ ہیں مگر ان کی حالت رو با صلاح ہے اور طلب معافی کے لئے تیار ہیں۔اگر اس حالت میں ان کے نابالغ بچے کا جنازہ جماعت بٹالہ نے پڑھ لیا ہے تو اس میں کوئی حرج تو نہیں؟ ہدایات حضور :۔میراں بخش صاحب کو سنز املی تھی نہ ان کے لڑکے کو پس جنازہ جائز تھا۔جوشخص اپنے آپ کو احمدی کہتا ہو اور اسے سزا کے طور پر الگ کیا گیا ہو۔اگر اس کا چھوٹا بچہ یا بیوی فوت ہو جسے سزانہ ملی ہو تو اس کا جنازہ یقیناً جائز ہے۔ہاں جو جوان لڑکا ہو اور اپنے کو غیر احمدی کہتا ہو تو پھر جائز نہیں۔(فائل غیر احمدی سے رشتہ ناطہ دفتر اصلاح وارشاد سے ) بیعت کے فوراً بعد مرجانے والے کاجنازہ سوال :۔ایک شخص نے ہمالت بیماری بیعت کا خط لکھا اور اس کے بعد تین گھنٹہ کے اندر فوت ہو گیا۔وہاں کی احمدی جماعت نے اس کے جنازہ کے متعلق حضرت خلیفتہ اسیح ثانی سے دریافت کیا۔جواب:۔جو شخص بیعت کرتا ہے خواہ ایک منٹ کے بعد فوت ہو جائے اس کا جنازہ پڑھ دینا چاہئے ہاں منصوبہ نہ ہو۔الفضل ۷ اگست ۱۹۲۳ء۔نمبر ۹) نظام جماعت سے خارج شده افراد کاجنازه سوال :۔ایک شخص جماعت کے ممبروں اور کارکنوں کے روبرو بیعت کا خط لکھتا ہے۔تندرستی کی حالت ہے اور ہوش و حواس قائم ہیں۔کسی کا خاص دباؤ وغیرہ نہیں اور اپنی خوشی سے بیعت کا خط لکھتا