فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 114 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 114

۱۱۴ قربانی کے مسائل قربانیوں کے گوشت قربانیوں کے گوشت کے متعلق یہ حکم ہے کہ یہ صدقہ نہیں ہوتا۔چاہئے کہ خود کھا ئیں دوستوں کو دیں۔چاہے سکھا بھی لیں۔امیر غریبوں کو دیں۔غریب امیروں کو۔اس سے محبت بڑھتی ہے لیکن محض امیروں کو دینا اسلام کو قطع کرنا ہے اور محض غریبوں کو دینا اور امیروں کو نہ دینا اسلام میں درست نہیں۔امیروں کے غریبوں اور غریبوں کے امیروں کو دینے سے محبت بڑھتی ہے اور مذہب کی غرض جو محبت پھیلانا ہے پوری ہوتی ہے۔الفضل ۱۷ اگست ۱۹۲۲ء ۱۱۷ارستمبر ۱۹۵۱ء۔جلد نمبر ۱۰ نمبر ۱۳) سوال : کیا قربانی کا گوشت ہندو یا عیسائی یعنی غیر مذاہب کے دوستوں کو دینا جائز ہے یا نہیں؟ جواب :۔خواہ کوئی ہندو ہو یا عیسائی تحفہ دینا جائز ہے۔( الفضل یکم جولائی ۱۹۱۵ء۔جلد نمبر۳۔نمبر۴ ) سوال :۔ایک شخص نے قربانی کا گوشت گھر میں رکھ کر اس کی بڑیاں بنالیں کیا جائز ہے؟ جواب: منع تو نہیں۔حدیثوں میں اس کا ذکر آتا ہے مگر بہتر یہی ہے کہ مسکینوں کو دیا جائے۔الفضل ۱۹؍ دسمبر ۱۹۱۵ء۔جلد نمبر ۳۔نمبر ۷۱ ) قربانی اور صدقہ میں فرق ابرا نہیمی سنت کے ماتحت مسلمانوں کو بھی قربانی کا حکم ہے اور اس پر مسلمان ہمیشہ سے عمل کرتے چلے آئے ہیں مگر چونکہ اس رؤیا کے دونوں پہلو ہیں مندر بھی اور مبشر بھی۔اسی وجہ سے اس قربانی اور صدقہ میں فرق ہے۔صدقہ کا گوشت انسان کو خود کھانا جائز نہیں۔مگر اس قربانی کا گوشت انسان خود بھی استعمال کر سکتا ہے اور اپنے دوستوں اور غرباء ومساکین میں بھی تقسیم کیا جاسکتا ہے۔الفضل ۲۰ ستمبر ۱۹۱۹ء۔خطبات عیدین صفحه ۷۲ )