فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 113 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 113

قربانی کے مسائل 2۔قربانی سنت موکدہ ہے جس شخص میں قربانی دینے کی طاقت ہو وہ ضرور کرے۔3 قربانی کا گوشت خواہ خود استعمال کرے چاہے صدقہ کرے اور اس کی کھال اگر گھر میں رکھے تو ایسی چیز تیار کرائے جس کو عام استعمال کر سکیں۔احمدیوں کو صدرانجمن احمد یہ قادیان میں کھال یا اس کی قیمت صدقات میں ارسال کرنا چاہئے۔4۔اگر دوسالہ مینڈھایا بکرانہ ملے تو ایک سالہ بھی ہوسکتا ہے اور دنبہ سال سے کم کا بھی ہوتب بھی جائز ہے۔5۔جو لوگ قربانی کرنے کا ارادہ کریں ان کو چاہئے کہ ذی الحجہ کی پہلی تاریخ سے لے کر قربانی کرنے تک حجامت نہ کرائیں۔اس امر کی طرف ہماری جماعت کو خاص توجہ کرنی چاہئے کیونکہ عام لوگوں میں اس سنت پر عمل کرنا مفقود ہو گیا ہے۔الفضل ۲۲ ستمبر ۱۹۱۷ء جلد ۵ صفحه ۲۴) عید کے احکام یہ ہیں کہ ہر ایک خاندان کی طرف سے بکری کی قربانی ہوسکتی ہے اگر کسی میں وسعت ہو تو ہر شخص بھی کر سکتا ہے ورنہ ایک خاندان کی طرف سے ایک قربانی کافی ہے۔یہاں خاندان سے تمام دور ونزدیک کے رشتہ دار مراد نہیں بلکہ خاندان کے معنے ایک شخص کے بیوی بچے ہیں اگر کسی شخص کے لڑکے الگ الگ ہیں اور اپنا علیحدہ کماتے ہیں تو ان پر علیحدہ قربانی فرض ہے۔اگر بیویاں آسودہ ہوں اور اپنے خاوند سے علیحدہ ان کے ذرائع آمد ہوں تو وہ علیحدہ قربانی کر سکتی ہیں ورنہ ایک قربانی کافی ہے۔بکرے کی قربانی ایک آدمی کے لیے ہے اور گائے اور اونٹ کی قربانی میں سات آدمی شامل ہو سکتے ہیں۔ائمہ کا خیال ہے ایک گھر کے لیے ایک حصہ کافی ہے اگر گھر کے سارے آدمی سات حصہ ڈال لیں تو وہ بھی ہوسکتا ہے ورنہ ایک گھر کی طرف سے ایک حصہ بھی کافی ہے۔الفضل ۱۷ اگست ۱۹۲۲ء جلد ۱۰، صفحہ ۱۳۔خطبہ عید الاضحی)