فرموداتِ مصلح موعود — Page 105
۱۰۵ عید اور جمعه اگر اکھٹے ھو جائیں جمعہ کے ضروری احکام شریعت نے اس بات کی اجازت دی ہے کہ عید اور جمعہ اکٹھے ہو جائیں تو جائز ہے کہ جمعہ کی بجائے ظہر کی نماز پڑھ لی جائے۔لیکن یہ بھی جائز ہے کہ عید اور جمعہ دونوں پڑھ لیے جائیں۔کیونکہ ہماری شریعت نے ہرامر میں سہولت کو مدنظر رکھا ہے۔چونکہ عام نمازیں اپنے اپنے محلوں میں ہوتی ہیں۔لیکن جمعہ کی نماز میں سارے شہر کے لوگ اکٹھے ہوتے ہیں اسی طرح عید کی نماز میں بھی سب لوگ اکٹھے ہوتے ہیں اور ایک دن میں دو ایسے اجتماع جن میں دور دور سے لوگ آ کر شامل ہوں مشکلات پیدا کر سکتا ہے اس لیے شریعت نے اجازت دی ہے کہ اگر لوگ برداشت نہ کر سکیں تو جمعہ کی بجائے ظہر پڑھ لیں۔بہر حال اصل غرض شریعت کی یہ ہے کہ مسلمان اپنی زندگی میں زیادہ سے زیادہ عرصہ کے لیے اکٹھے بیٹھ سکیں کیونکہ اسلام صرف دل کی صفائی کے لیے نہیں آیا۔اسلام قومی ترقی اور معاشرت کے ارتقاء کے لیے بھی آیا ہے اور قوم اور معاشرت کا پتہ بغیر اجتماع میں شامل ہونے کے نہیں لگ سکتا۔المصلح کرائی اور کو بر۱۹۵۳) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا :۔جب جمعہ اور عید جمع ہو جائیں تو اجازت ہے کہ جو لوگ چاہیں جمعہ کی بجائے ظہر کی نماز ادا کر لیں مگر فر ما یا ہم تو جمعہ ہی پڑھیں گے۔کل بھی میرے پاس ایک مفتی صاحب کا فتویٰ آیا تھا کہ بعض دوست کہتے ہیں اگر جمعہ کی بجائے ظہر کی نماز ہو جائے تو قربانیوں میں ہم کو سہولت ہو جائے گی اور انہوں نے اس قسم کی حدیثیں لکھ کر ساتھ بھجوادی تھیں۔میں نے ان کو یہی جواب دیا تھا کہ اس میں کوئی شبہ نہیں جمعہ اور عید جب جمع ہو جائیں تو جمعہ کی بجائے ظہر کی نماز پڑھنے کی اجازت ہے مگر ہم تو وہی کریں گے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا اگر کوئی جمعہ کی بجائے ظہر پڑھنا