فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 96 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 96

۹۶ پھر ایک پڑھتے۔( الفضل ۱۲ جون ۱۹۲۲ء) سوال:۔کیا وتر اس طرح پڑھے جاسکتے ہیں کہ تینوں رکھتیں اکٹھی پڑھی جائیں اور درمیان میں دورکعتوں کے بعد تشہد نہ بیٹھا جائے؟ جواب: وتر کا صحیح طریق یہ ہے کہ دورکعت پڑھ کر تشہد بیٹھے پھر سلام پھیر دے۔پھر کھڑا ہوکر ایک رکعت پڑھے اور التحیات کے بعد سلام پھیرے یا دوسری رکعت کا تشہد پڑھ کر کھڑا ہو جائے اور تیسری رکعت پڑھے اور تشہد پڑھ کر سلام پھیر دے۔الفضل ۱۵ ستمبر ۱۹۳۵ء۔جلد نمبر ۶۶ نمبر ۲۳) دعائے قنوت پڑھناضروری نہیں سوال :۔کیا حضور دعائے قنوت کے قائل ہیں؟ جواب:۔دعائے قنوت کا تو میں قائل ہوں لیکن اس بات کا قائل نہیں ہوں کہ اس کا پڑھنا ضروری اور فرض ہے۔میرے نزدیک دعائے قنوت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک خاص زمانہ کا فعل ہے۔جسے غلطی سے فرائض میں داخل کر لیا گیا تھا۔( الفضل ۱/۸اپریل ۱۹۴۷ء مجلس عرفان ) ☆☆☆