فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 87 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 87

۸۷ اسلامی عبادات اور مسجد میں روزہ کھول لیتے تھے لیکن کھانا نہ کھاتے تھے اور اسی حالت میں اگلے دن پھر روزہ رکھ لیتے۔صحابہ کو آپ کے نقش قدم پر چلنے کا اتنا شوق تھا کہ انہوں نے بھی ایسے روزے رکھنے کی اجازت چاہی لیکن آپ نے انہیں منع کرتے ہوئے فرمایا مجھے اللہ تعالیٰ خود اپنے پاس سے غذا کھلا دیتا ہے۔الفضل ۷ ار ستمبر ۱۹۴۶ء۔جلد ۳۴۔نمبر ۱۱۶) سوال : قطبین میں جہاں چھ ماہ کے دن اور رات ہوتے وہاں اسلامی نظام کے مطابق نماز ، روزہ کس طرح ادا ہوسکتا ہے۔اس سے تو ثابت ہوتا ہے کہ اسلام عالمگیر مذہب نہیں؟ جواب :۔فرمایا۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ سوال در حقیقت اسلام کی فضیلت ثابت کرنے کا ذریعہ ہے اور ملائکہ کی تحریک سے ہوا ہے۔چونکہ روزہ اور عبادت تو سب مذاہب میں موجود ہیں اور یہ دونوں چیز میں نوعیت کے اختلاف کے باوجود دن اور رات کے اوقات سے تعلق رکھتی ہیں۔اسلام کے سوا کوئی اور مذہب ایسا نہیں جس میں اس کا حل موجود ہو کہ اگر کسی جگہ چھ ماہ کا دن ہو اور چھ ماہ کی رات ہو تو وہاں عبادت کیسے ادا کریں۔پس یہ اعتراض اگر اعتراض ہے تو سب مذاہب پر وارد ہوتا ہے۔ہاں اتنا فرق ہے کہ اسلام میں اس سوال کا جواب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے موجود ہے مگر باقی کسی مذہب کے بانی کی طرف سے اس سوال کا جواب نہیں دیا گیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہور د قبال کے ذکر میں فرمایا کہ چھ چھ ماہ کا دن ہو گا۔حضور علیہ السلام کا یہی مطلب تھا کہ مسیح موعود علیہ السلام کے وقت میں جو قاتل دجال ہے ایسے علاقوں کا انکشاف بھی ہوگا جہاں چھ چھ ماہ کا دن ہوتا ہے۔صحابہ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ پھر نمازوں کا کیا بنے گاوہ کس طرح ادا کی جائیں گی۔آپ نے فرمایا فاقد روالہ کہ اس کے لئے اوقات کا اندازہ کر لیا جائے گا۔اندازہ کر کے نماز ادا کرلیں۔اسلامی تعلیمات کا یہ مسئلہ بہت بڑی حکمت اپنے اند رکھتا ہے۔ایک تو اس میں پیشگوئی ہے کہ ایسے ایسے علاقوں کا پتہ لگے گا جہاں معمول سے زیادہ لمبے دن ہوتے ہیں لیکن چونکہ وہ علاقے ابھی