فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 31 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 31

۳۱ اسلام کاسب سے بڑا رُکن نماز ھے نماز سے متعلقہ مسائل شریعت کے جو موٹے موٹے احکام مثلاً نماز ، حج ، زکوۃ وغیرہ ہیں ان میں سے سب سے بڑا رکن نماز ہے۔جو شخص اس بڑے رکن یعنی نماز کا تارک ہے وہ درحقیقت اسلام کا تارک ہے اور جب تک وہ نماز نہیں پڑھتا تب تک وہ جھوٹا اور منافق ہے۔اس کا اور کاموں میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔اس کا بخشش کرنا ، اس کا چندہ دینا اور دینی کام کرنا خدا کے حضور کچھ حیثیت نہیں رکھتا۔میں نے تو جہاں تک غور کیا ہے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ جو شخص نماز پڑھتا ہے خواہ وہ عیبوں میں کہاں تک نکل جائے اس کے لئے پھر بھی بچاؤ اور نجات کی صورت ہے لیکن جو شخص نماز نہیں پڑھتا وہ خواہ کس قدر بھی اور نیکیاں بجالائے اس کے لئے پھر بھی خطرہ ہے۔میرے نزدیک تو جو شخص سال میں ایک نماز بھی چھوڑتا ہے اس کا وہ تارک ہے بلکہ پندرہ سال میں بھی اگر ایک دفعہ نماز چھوڑی ہے تو وہ تارک ہے کیونکہ نماز میں ایک ایسا لطف و سرور ہے کہ اس کی وجہ سے وہ کبھی کوئی نماز نہیں چھوڑ سکتا۔جب سے وہ ایک دفعہ تو بہ کر لیتا ہے پھر اس کے بعد اگر ایک بھی نماز چھوڑتا ہے تو وہ تارک کہلائے گا۔نماز جو ہے وہ پہلا قدم ہے عبودیت کا۔جو شخص کبھی کبھی نماز چھوڑ دیتا ہے وہ یہودیوں اور ضالین میں شمار ہوگا۔جو شخص نماز چھوڑتا ہے میں اس کو یقین دلاتا ہوں کہ اس کو کبھی ایمان کی موت نصیب نہ ہوگی۔موت سے پہلے کوئی ضرور ایسا حادثہ ا سے پیش آجائے گا کہ جس کی وجہ سے وہ ایمان سے محروم ہوگا اور اس طرح بے ایمان ہو کر مرے گا۔(الفضل ۲۸ ستمبر ۱۹۲۳ء)