فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 427 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 427

۴۲۷ ضمیمه چار رکعت گھر میں پڑھ کر آتے تھے گو بخاری و مسلم نے چارسنتوں والی روایات کو ترجیح دی ہے لیکن دو سنتیں پڑھنا بھی جائز ہے۔حضرت خلیفہ اول ظہر کی جماعت سے پہلے ہمیشہ چار سنتیں پڑھا کرتے تھے۔میں بھی چار ہی پڑھتا ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے طاقت دی ہے تو کیوں نہ پڑھیں لیکن حضرت مسیح موعود کو میں نے سینکڑوں دفعہ دیکھا ہے اور متواتر دیکھا ہے آپ ظہر سے پہلے ہمیشہ دورکعت سنت پڑھا کرتے تھے۔دراصل حضرت مسیح موعود کی یہ دو رکعت ہماری ہزاروں رکعتوں کے برابر تھیں۔گویا حضرت مسیح موعود نے حدیث سے جو اقل سنتیں ثابت ہیں وہی پڑھی ہیں تا کہ باقی وقت آپ دعوت الی اللہ میں صرف کریں۔(الفضل ۲۱ / اکتوبر ۲۰۱۰ صفحه ۳) وفات یافتگان کی طرف سے قربانی کرنا؟ سید نا حضرت مصلح موعود بیان فرماتے ہیں:۔میں جب حج کے لئے گیا تو میں نے سات قربانیاں کی تھیں۔ایک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ، ایک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف سے، ایک والدہ صاحبہ کی طرف سے، ایک حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کی طرف سے، ایک اپنی طرف سے، ایک اپنی بیوی کی طرف سے اور ایک جماعت کے دوستوں کی طرف سے۔الفضل ۲۰ جنوری ۱۹۳۵ء صفحه ۱) وفات یافتگان کی طرف سے کپڑے وغیرہ بنوا کر دینا کسی شخص کی وفات کے بعد کپڑے وغیرہ بنوا کر دینے کی جو رسم ہے اس کے متعلق حضور نے ایک خط میں تحریر فرمایا:۔کپڑے وغیرہ بنا کر دینا بدعت ہے اور اس سے مومن کو بچنا چاہیے۔ہاں صدقہ بلاتعین تاریخ دینا متوفی کے لئے مفید ہوتا ہے۔پس غریبوں کو ان تاریخوں میں جن میں لوگ رسماً صدقہ نہیں کرتے