فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 396 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 396

۳۹۶ متفرق پڑھ کے سور ہے تو کچھ نقصان نہیں ہو سکتا اور اگر انسان یہ توجہ کرے میں ایسا اثر قبول نہیں کروں گا تو اس پر اثر نہیں ہوگا۔کیونکہ وہ انسانی اثر ہوتا ہے اور انسانی اثر کو انسان روک سکتا ہے اور چونکہ دفاعی طاقت زیادہ ہے اس لئے اثر نہیں ہو سکتا۔جن لوگوں میں روحانی طاقت ہوتی ہے ان پر مسمریزم وغیرہ کا کچھ اثر نہیں ہوتا۔الفضل ۲۱ فروری ۱۹۲۱ء - جلد ۸ نمبر ۶۳ صفحه ۵) سوال :۔ایک صاحب نے لکھا کہ حضور کی خدمت میں اگر کوئی چیز دم کرنے کے لئے مثلاً سرمہ بھیجی جائے تو حضور کی اس میں کیا رائے ہے؟ جواب :۔فرمایا۔میں تو دم کا ایسا قائل نہیں ہوں۔دم جو ہیں تو بیماری والے مریض پر تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ عقلاً اس کا فائدہ اور اس کی حکمت معلوم ہوتی ہے باقی چیزوں پر دم کر کے بھیجنا نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔گواس میں بھی بعض حالات میں فائدہ کم ہے اور نقصان زیادہ ہے۔یہ روحانیت پر ایسا اثر ڈال دیتی ہیں کہ خدا تعالیٰ سے دور کر دیتی ہیں اور انسان مادی چیزوں کی طرف ہی راغب ہو جاتا ہے۔دم کی مثال بالکل اس شخص کی ہے جیسے کوئی شخص کسی افسر کے اپنے کسی کام کے لئے درخواست کرنے کے لئے جاوے اور پھر بجائے اس کے کہ خود اس کو بار بار توجہ دلائے اس کو کہہ دیوے کہ اپنی میز پر ایک کا غذ لکھ کر رکھ چھوڑیں جس سے میرے معاملہ کی یاد تازہ ہوتی رہے۔یہ چیزیں انسان کو دعا سے غافل کر دینے والی ہیں اور خدا کی طرف بار بار رجوع کرنا جو ایمان کی جڑ ہے اس سے انسان کو دور کر دیتی ہیں۔الفضل ۲۶ فروری ۱۹۲۴ء۔جلد نمبر ۶۷ صفحه ۸) سوال :۔عام خیال ہے کہ بچوں کو نظر لگ جاتی ہے۔کیا یہ درست ہے؟ اگر درست ہے تو اس کا علاج کیا ہے؟ جواب:۔ہاں لگ جاتی ہے۔وجہ یہ ہے کہ انسان کے اندر ایسی طاقت رکھی ہے کہ ایک کے خیالات کا اثر دوسرے کے اوپر جا پڑتا ہے۔جب انسان ہر چیز کو نہایت ہی محبت کی نگاہ سے دیکھتا ہے