فرموداتِ مصلح موعود — Page 382
۳۸۲ ناچ گانا لئے ایک نہایت ہی مہلک اور تباہ کن چیز ہے اور تمدنی لحاظ سے بھی ملکی امن کے لئے خطرہ کا موجب ہے۔میں نے کچھ عرصہ ہوا فرانس کے متعلق پڑھا کہ وہاں کئی گاؤں صرف اس لئے ویران ہو گئے کہ لوگ سینما کے شوق میں گاؤں چھوڑ چھوڑ کر شہروں میں آکر آباد ہو گئے تھے اور گورنمنٹ کو فکر پڑ گئی کہ اس رو کوکس طرح روکا جائے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ سینما اپنی ذات میں برانہیں مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ اس کا بُرے طور پر استعمال کر کے اس زمانہ میں اسے انتہائی طور پر نقصان رساں اور تباہ کن بنادیا گیا ہے۔ورنہ اگر کوئی شخص ہمالیہ پہاڑ کے نظاروں کی فلم تیار کرے اور وہاں کی برف اور درخت اور چشمے وغیرہ لوگوں کو دکھائے جائیں۔اس کی چٹانوں اور غاروں اور چوٹیوں کا نظارہ پیش کیا جائے اور اس میں کسی قسم کا با جایا گانا نہ ہو تو چونکہ یہ چیز علمی ترقی کا موجب ہوگی۔اس لئے یہ جائز ہوگی۔اسی طرح اگر کوئی فلم کلی طورپر تبلیغی ہو یا تعلیمی ہو اور اس میں گانے بجانے یا تماشہ کا شائبہ تک نہ ہوتو اس کے دیکھنے کی ہم اجازت دیں گے۔اسی طرح تربیتی یا جنگی اداروں کی طرف سے جو خالص علمی تصاویر آتی ہیں جن میں جنگلوں، دریاؤں کے نظارے یا کارخانوں کے نقشے یا لڑائی کے مختلف مناظر ہوتے ہیں وہ بھی دیکھے جاسکتے ہیں کیونکہ ان کے دیکھنے سے علمی ترقی ہوتی ہے یا بعض صنعتی یا زرعی تصویریں ہوتی ہیں جن میں کسانوں کو کھیتی باڑی کے طریق سکھائے جاتے ہیں۔فصلوں کو تباہ کرنے والی بیماریوں کے علاج بتائے جاتے ہیں۔زراعت کے نئے نئے آلات سے روشناس کیا جاتا ہے۔عمدہ بیج اور ان کی پیداوار دکھائی جاتی ہے۔ایسی چیزیں لغو میں شامل نہیں کیونکہ ان کے دیکھنے سے علمی لحاظ سے انسان کو ایک نئی روشنی حاصل ہوتی ہے اور اس کا تجربہ ترقی کرتا ہے اور وہ بھی اپنی تجارت یا صنعت یا زراعت کو زمانہ کی دوڑ کے ساتھ ساتھ بڑھانے اور ترقی دینے کے وسائل اختیار کر سکتا ہے لیکن جھوٹی فلم خواہ جغرافیائی ہو، خواہ تاریخی ، ناجائز ہے مثلاً نپولین کی جنگوں کی کوئی شخص فلم بنائے تو یہ جھوٹی ہوگی۔جغرافیائی اور تاریخی فلم سے مراد محض کچی فلم ہے ، جھوٹی فلم مراد نہیں۔بہر حال سینما کی وہ فلمیں جو آجکل تمام بڑے بڑے شہروں میں دکھائی جاتی ہیں اور جن میں ناچ بھی ہوتا ہے اور گانا بجانا بھی ہوتا ہے یہ ایک بدترین لعنت ہے۔جس نے سینکڑوں شریف گھرانوں کے لوگوں کو گویا اور سینکڑوں