فرموداتِ مصلح موعود — Page 354
۳۵۴ بھی مفید ہے اور جماعتی تنظیم کے لئے بھی بہت فائدہ مند ہے۔اسی طرح اگر ہماری جماعت میں بھی اسلامی شعار کو قائم رکھنے کا احساس ہو جائے۔اور وہ بختی سے اس پر پابند ہو جائے۔تو یقیناً اس کا بھی لوگوں کے دلوں پر رعب قائم ہو جائے گا اور لوگ یہ سمجھنے لگ جائیں گے کہ یہ لوگ اپنی بات کے پکے ہیں اور کسی کی رائے کی پرواہ نہیں کرتے۔جب یہ لوگ داڑھی کے معاملہ میں اس قدرختی سے پابند ہیں تو باقی اسلامی احکام کے وہ کیوں پابند نہ ہوں گے۔اگر ہم نے ان کی کسی دینی بات میں دخل اندازی کی تو یہ لوگ مر جائیں گے لیکن اپنی بات کو پورا کر کے چھوڑیں گے۔اس کے مقابل میں اگر لوگ یہ دیکھیں کہ تم لوگوں کی باتوں سے ڈر کر اور لوگوں کی ہنسی سے ڈر کر داڑھی منڈوا لیتے ہو یا چھوٹی کر لیتے ہو تو وہ خیال کریں گے کہ جو لوگ دنیا کی باتوں سے ڈر جاتے ہیں وہ گورنمنٹ کے قانون اور پولیس کے ڈنڈے سے کیوں مرعوب نہ ہوں گے۔پس تمہارا داڑھیوں کے معاملہ میں کمزوری دکھانا جماعت کے رُعب اور اثر کو بڑھانے کا موجب نہیں۔بلکہ رعب اور اثر کو گھٹانے کا موجب ہے۔اگر تم داڑھیاں رکھو گے تو دنیا میں اسلام کا رعب قائم ہونا شروع ہو جائے گا اور لوگ خیال کریں گے کہ اس دہریت کی زندگی میں اس فلسفیانہ فضا میں اس عیاشی اور نزاکت کی صدی میں جبکہ دنیا داڑھیوں سے جنسی اور ٹھٹھا کر رہی ہے۔یہ لوگ اسلام کے اس حکم پر عمل کرتے ہیں اور کسی کی رائے کا خیال نہیں کرتے۔واقعی ان کے دلوں میں اسلام کا درد ہے اور یہ لوگ وہی کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا حکم ہے۔داڑھی الفضل ۲۱ فروری ۱۹۴۷ء صفحه ۴ تا ۶ - خطبہ جمعہ فرموده ۱۴ / فروری ۱۹۴۷ء)