فرموداتِ مصلح موعود — Page 335
۳۳۵ معاملات ایک دوست نے دریافت کیا کہ اہلکار ان جو روپیہ لوگوں سے بطور بالا کی آمدنی لے لیتے ہیں اگر وہ اس میں سے از خود کچھ حصہ دیں تو اس کو لے لیا جائے اور آیا وہ کسی کارخیر میں خرچ کرنا جائز ہوگا؟ حضرت خلیفہ ثانی نے ان کو جواب لکھایا کہ وہ روپیہ حرام ہے۔مسکین فنڈ میں بھی داخل نہیں ہوسکتا جور تم آچکی ہو وہ کسی محتاج کو دے دیں اور آئندہ ہرگز نہ لیں۔الفضل ۱۵ جون ۱۹۱۵ء - جلد ۲ نمبر ۱۵۳ صفی ۲) ایک دوست نے پوچھا کہ محکمہ ریلوے میں جو مال سٹیشنوں پر آتا ہے اس کے چھڑانے کے وقت بیو پاری مجھے پیسے اپنے خوشی سے دیتے ہیں کیا یہ لینے جائز ہیں؟ فرمایا۔بالکل حرام ہیں۔☆☆☆ الفضل ۶ رمئی ۱۹۱۵ء۔جلد ۲۔نمبر ۱۳۶ صفحه ۲ )