فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 330 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 330

زندگی کے بیمہ میں سودضرور ہوتا ہے۔اس لئے جائز نہیں۔اور جوا بھی ہوتا ہے۔معاملات ( الفضل ۱۸ / مارچ ۱۹۱۶ء صفحه ۱۵) سوال :۔فرمایا۔ایک صاحب نے سوال کیا ہے کہ آج کل فسادات کی وجہ سے جو نقصانات ہورہے ہیں ان میں مسلمانوں کا نقصان زیادہ ہو رہا ہے کیونکہ ان کی مالی حالت کمزور ہے اور دوسری قوموں کے پاس چونکہ روپیہ ہے اس لئے وہ اپنی حفاظت کے سامان کر سکتی ہیں۔کیا ایسی صورت میں بیمہ جائز ہے یا نا جائز ؟ جواب :۔اس کا جواب یہ ہے کہ جس چیز کو شریعت نے ناجائز قرار دیا ہے وہ بہر حال ناجائز ہے چاہے نقصان ہی کیوں نہ ہو جائے آخر وفاداری کا پتہ بھی تو نقصان یا دکھوں کے وقت ہی لگا کرتا ہے۔نفع اور آرام کے وقت تو ہر شخص وفاداری دکھا سکتا ہے۔بیمہ کوئی ایسی چیز تو ہے نہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی تھی۔اس لئے لفظ بیمہ کا ثبوت نہ تو ہمیں قرآن کریم سے ملتا ہے اور نہ ہی احادیث سے ملتا ہے۔قرآن کریم اور احادیث سے کسی چیز کے جائز یا نا جائز ہونے کے اصول کا پتہ ضرور لگ جاتا ہے اور ان اصول کی روشنی میں ہم دیکھتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ موجودہ صورت میں بیمہ جن اصول پر چلایا جارہا ہے وہ شریعت کے خلاف ہیں۔شریعت میں سود بھی منع ہے اور جوا بھی منع ہے اور یہ دونوں چیزیں بیمہ کے اندر پائی جاتی ہیں۔بیمہ کے موجودہ اصول کے مطابق نہ تو یہ سود کے بغیر چل سکتا ہے اور نہ جوئے کے بغیر۔پس سود اور جوئے کی وجہ ہماری شریعت بیمہ کی موجودہ صورت کو جائز قرار نہیں دے سکتی۔یہ بھی یا درکھنا چاہئے کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ بیمہ منع ہے بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ بیمہ کی موجودہ صورت منع ہے۔ہمیں بیمہ کے لفظ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں بلکہ اس کی تفصیل کے ساتھ تعلق ہے۔ہوسکتا ہے کہ کوئی وقت ایسا بھی آجائے جبکہ بیمہ زندگی کی موجودہ صورت بدل جائے اور سود اور جوا دونوں ہی اس میں نہ رہیں اور اسے خالص اسلامی اصول کے ماتحت چلایا جائے۔ایسی صورت میں اس کے جواز کا فتویٰ دیدیا جائے گا۔بہر حال ہم لفظ بیمہ کو نا جائز قرار نہیں دیتے بلکہ بیمہ کی موجودہ شکل اور اس کی موجودہ