فرموداتِ مصلح موعود — Page 322
۳۲۲ معاملات ہدایت فرمائی ہے اور اپنا سارا مال خرچ کرنے کی اجازت نہیں دی۔ہاں اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں صبہ کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔اس لئے کہ حبہ کی تکلیف خود اسے بھی پہنچتی ہے مثلاً ایک شخص جس کی سالا نہ آمد ایک لاکھ روپیہ ہے وہ اگر اس آمد کوھبہ کرنا چاہے تو کرسکتا ہے اس لئے کہ وہ خود بھی اپنے آپ کو تکلیف میں ڈالتا ہے۔وہ صبہ سے پہلے اگر آٹھ ہزار یا چار ہزار یا تین ہزار روپیہ ماہوار میں گزارہ کر رہا تھا تو صبہ کے ذریعہ اس نے اپنے آپ کو بھی اس آمد سے محروم کر لیا۔پس صبہ ایک علیحدہ چیز ہے اور اسلام نے اسے جائز رکھا ہے کیونکہ ھبہ میں انسان اپنی بیویوں اور اپنے بچوں کو ہی اپنی جائیداد سے محروم نہیں کرتا بلکہ اپنے آپ کو بھی اس سے فائدہ اٹھانے سے محروم کر لیتا ہے اور اگر کوئی شخص اپنی خوشی سے قربانی کرنے کے لئے تیار ہو تو شریعت اس کے جذبہ قربانی میں روک نہیں بنتی لیکن اگر وہ اپنی زندگی میں ایک لاکھ روپیہ سالانہ آمد اپنے نفس پر خرچ کرتا رہتا ہے اور مرتے وقت چاہتا ہے کہ اپنا سارا مال خدا کی راہ میں دیدے تو اس کے معنے یہ ہیں کہ وہ خود تو سارے روپیہ سے فائدہ اٹھاتا رہا لیکن جب مرنے لگا تو اس نے چاہا کہ اب اس کے بیوی بچے اور دوسرے رشتہ دار جس طرح چاہیں گزارہ کریں اور ان کے لئے کوئی روپیہ باقی نہ رہے۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مرنے والا صرف ایک تہائی تک کی وصیت کرے۔(الفضل ۲۵ / جولائی ۱۹۵۷ء) غیر شادی شدہ عورت کی وصیت سوال :۔اگر وصیت کے لئے مہر کی شرط کی گئی تو غیر شادی شدہ عورتوں کی وصیت کے متعلق کیا ہوگا ؟ جواب :۔سو یاد رکھنا چاہئے کہ غیر شادی شدہ عورت جو بھی اپنی جائیداد بتائے گی ہم اسے تسلیم کرلیں گے۔اگر وہ کہے گی کہ میرے پاس ایک روپیہ ہے تو ہمارا فرض ہوگا کہ اس ایک روپیہ کو ہی تسلیم کر لیں۔کیونکہ قرآن کریم کہتا ہے کہ غیر شادی شدہ رہنا منع ہے۔آخر دو چار سال تک تو وہ غیر شادی