فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 6 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 6

عقائد ونظریات ایک معین صورت اختیار کرتے ہیں تو اس کا نام نفس ہوتا ہے جیسے تار دینے والا جب آلہ تار کوحرکت دیتا ہے تو دوسری طرف اس کے خیالات کا اظہار ہوتا چلا جاتا ہے۔روح جو ہے وہ تار دینے والا وجود ہے۔دماغ آلہ تار ہے اور اس کے حرکت دینے سے جو ایک معین مفہوم پیدا ہوتا چلا جاتا ہے وہ گویا نفس ہے لیکن یہ مثال مکمل نہیں ہے اس سے کسی قدرا اندازہ کیا جاسکتا ہے بعض نقائص اس میں ہیں۔(الفضل ۹ر جولائی ۱۹۲۹ء۔جلد ۱۷۔نمبر ۳ صفحہ ۶) روحیں بلائی نہیں جاسکتیں سوال :۔کیا مردوں کی روحیں زندوں کے پاس آسکتی ہیں اور باتیں کر سکتی ہیں؟ جواب:۔ہاں روحیں آسکتی ہیں اور باتیں کر سکتی ہیں مگر خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت۔خود بخود نہیں آسکتیں اور نہ زندہ انسان انہیں بلا سکتے ہیں جب تک دنیا کے لوگوں سے خدا تعالیٰ ان کا واسطہ نہ پیدا کرے۔روحیں نہیں آسکتیں اور نہ کلام کر سکتی ہیں وہ لوگ جو روحیں بلانے کے دعوے کرتے ہیں ان کا دعویٰ نہایت ہی مضحکہ خیز ہے۔ولایت میں اس قسم کے لوگ میرے پاس آئے تو میں نے انہیں کہا۔کیا آپ اس طرح کر سکتے ہیں کہ کچھ آدمی علیحدہ علیحدہ بٹھا دیں اور پھر ان سب پر ایک ہی روح بلائیں۔اگر سب کے سب یہ کہیں کہ ان پر روح آگئی ہے تو یہ غلط ہو گا۔کیونکہ ایک روح ایک وقت میں ایک ہی جگہ مصروف ہوسکتی ہے نہ کہ مختلف جگہوں میں اور اگر کہو کہ روحیں مرنے کے بعد اتنی طاقت حاصل کر لیتی ہیں کہ ایک ہی روح ایک ہی وقت مختلف جگہوں میں جاسکتی ہے تو اس کا تجربہ اس طرح ہوسکتا ہے کہ ایک ہی روح کچھ مختلف آدمیوں پر بلا کر اس سے ایک ہی قسم کے سوالات کئے جائیں اگر ان کے، سب ایک ہی جواب دیں تو ہم مان لیں گے کہ روحیں آسکتی ہیں اور بلائی جاسکتی ہیں مگر اس بات کو کسی نے تسلیم نہ کیا۔الفضل ۱۶ جنوری ۱۹۳۳ء۔جلد نمبر ۲۱۔پر چہ نمبر ۸۵ صفحہ۵ )