فرموداتِ مصلح موعود — Page 190
190 نکاح اپنے فوائد یا اغراض کے لئے اس کی شادی میں روک بن رہے ہیں اس پر اگر قاضی دیکھے کہ یہ صحیح ہے تو لڑکی کو اختیار دے سکتا ہے کہ وہ شادی کر لے۔پھر چاہے وہ اس پہلی جگہ ہی شادی کرے جہاں سے والدین نے اسے روکا تھا یہ جائز شادی ہوگی۔(خطبات محمود جلد ۳ صفحه ۲۵۳) اسلام نے یہ حکم بھی دیا ہے کہ علاوہ اس کے میاں بیوی آپس میں ایک دوسرے کی نسبت تسلی کرلیں۔عورت کے رشتہ دار بھی تسلی کر لیں کہ واقع میں مرد ایسے اخلاق کا ہے کہ اس سے رشتہ کرنا عورت کے لئے بھی اور آئندہ نسل کے لئے بھی مفید ہوگا اور نکاح کے لئے یہ شرط لگائی ہے کہ مرد کی پسند ہو، عورت کی منظوری ہو اور عورت کے باپ یا بھائی یا جو خاندان کا بڑا مرد ہو اس کی منظوری ہو اور اگر کوئی مرد خاندان میں نہ ہو تو حاکم شہر اس امر کی تسلی کرے کہ کسی عورت کو کوئی شخص دھوکا دے کر تو شادی نہیں کرنے لگا۔عورت اور مرد میں اس وجہ سے فرق رکھا گیا ہے کہ مرد طبعا ایسے امور میں حیا کم کرتا ہے اور خود دریافت کر لیتا ہے اور عورت شرم کرتی ہے اور اس کے احساسات تیز ہوتے ہیں جن کی وجہ سے وہ جلد دھو کہ میں آجاتی ہے۔پس اس کے لئے اس کے خاندان کے بڑے مرد کی تحقیق اور منظوری یا ایسے کسی آدمی کی عدم موجودگی میں حاکم شہر کی منظوری ضروری رکھی ہے۔چونکہ اسلام میں پردہ کا حکم ہے اس لئے نکاح کے ابتدائی امور طے ہو جانے اور دیگر امور میں تسلی ہو جانے پر مرد اور عورت کو آپس میں ایک دوسرے کو کھلے طور پر دیکھنے کی اجازت دی ہے تا کہ اگر شکل میں کوئی ایسا نقص ہو جو بعد میں محبت کے پیدا ہونے میں روک ہو تو اس کا علم مرد وعورت کو ہو جائے۔انوار العلوم جلد ۸ ، احمدیت یعنی حقیقی اسلام صفحہ ۲۷۲۲۷۱) جہاں تک قاضی صاحب کے اس فیصلہ کا تعلق ہے کہ ایسی صورت میں کہ لڑکی سے اجازت نہ لی ہو نکاح ہر صورت میں ٹوٹا ہوا سمجھا جاتا ہے۔میں اس سے متفق نہیں۔اگر یہ صورت ہو تو ہندوستان اور