فرموداتِ مصلح موعود — Page 141
۱۴۱ زكوة زكوة يقيمون الصلوة ويؤتون الزكوة زکوۃ کی ضرورت اور اس کی اہمیت در حقیقت غربت کے سوال سے پیدا ہوتی ہے اور غربت ایک ایسی چیز ہے جو کبھی بھی بنی نوع انسان سے جدا نہیں ہوئی۔عام طور پر لوگ خیال کر لیتے ہیں کہ جب دنیا کی آبادی بڑھ جاتی ہے تو ایک حصہ غریب ہو جاتا ہے۔حالانکہ یہ بات درست نہیں۔آبادی کی کمی کی صورت میں بھی ہمیں غربت ویسی ہی نظر آتی ہے جیسے اس کی کثرت کی صورت میں۔چنانچہ حضرت آدم علیہ السلام کے زمانہ میں باوجوداس کے کہ اس وقت صرف چند ہی افراد تھے۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے بھی بعض پر غربت کا زمانہ آیا تھا کیونکہ فرماتا ہے کہ اگر تو اس جنت میں رہے گا تو تو پیاسا نہیں رہے گا۔تیرے ساتھی بھو کے نہیں رہیں گے۔(تفسیر کبیر۔جلد ہفتم سورۃ النمل۔صفحہ ۳۳۰) نماز کے علاوہ خدا تعالیٰ نے یہ بات بھی مقرر فرمائی ہے کہ اگر انسان کے پاس ۴۰ روپے ہوں تو وہ ایک روپیہ اللہ کی راہ میں دیوے۔یہ زکوۃ ہے۔زکوۃ کے معنے پاک کر دینے کے ہیں۔پس یہ مرد، عورتوں کا فرض ہے کہ وہ زکوۃ دیا کریں۔حضرت محمد رسول اللہ اس کی بہت تاکید فرمایا کرتے تھے۔حضرت ابو بکر کے وقت میں بعض لوگ زکوۃ کے منکر ہو گئے انہوں نے کہا کہ ہم زکوۃ نہیں دیتے حتی کہ اتنا شور ہو گیا کہ مدینے اور ایک بستی کے سوا بہت مرتد ہو گئے۔اس وقت حضرت عمرؓ نے جو بہت بہادر تھے حضرت ابو بکر سے کہا کہ آپ اس وقت ان سے نرمی کریں پھر آہستہ آہستہ مان لیں گے مگر حضرت ابو بکر نے کہا کہ دیکھو تم کو ڈر ہے کہ یہ بہت ہیں اور ہم تھوڑے اس لیے میں اکیلا جاؤں گا اور زکوۃ کے واسطے ان سے لڑوں گا اور اگر یہ ایک رتی بھی کم کر دیں گے تب بھی میں ان سے لڑائی کروں گا۔یہ خدا کا حکم ہے