فرموداتِ مصلح موعود — Page 131
۱۳۱ نماز جنازه نہ کر سکے اور بچ جائے تو پھر اس کی توبہ کی وجہ سے وہ سزا سے محفوظ رہ سکتا ہے۔خود کشی کرنے والے کے لئے صدقے وغیرہ کرنا نا جائز ہے۔الفضل ۱۹ دسمبر ۱۹۱۲ء۔جلد نمبر ۴ نمبر ۴۵) (فائل دینی مسائل DP 5629/5۔1۔52-65-A) سوال :۔میرا بھائی عمر میں یا بائیس سال۔دینی و دنیوی حالت میں قابل تعریف۔گلے میں رسی ڈال کر خود کشی کر لی۔اس کا جنازہ غائب پڑھا جائے۔ماموں کے کہنے پر بغیر جنازہ سپر د خاک کیا۔کیا اس کی روح کی مغفرت کے لئے دعا کی جائے یا نہیں۔وہ احمدی تھا خود کشی کر کے بڑا مجرم بنا؟ جواب:- اگر خودکشی ثابت ہو تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جنازہ منع فرمایا ہے۔چنانچہ جب مولوی عبد السلام صاحب عمر کے لڑکے نے خود کشی کی تھی تو جماعت نے جنازہ نہیں پڑھا تھا۔(فائل مسائل دینی A-32) اما نگادفن شده میت کاچهره دیکھنا میری والدہ کی وفات پر تقریبا چھ مہینے گزر چکے ہیں۔اب تابوت ربوہ لانے کا ارادہ ہے۔وفات کے وقت میں گھر پر موجود نہیں تھا کیا اب تابوت کھول کر چہرہ دیکھ سکتا ہوں؟ جواب :۔فرمایا۔دیکھنے کی اجازت ہوتی ہے خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مرزا ایوب بیگ کی نعش کو دیکھنے کی اجازت دی تھی اور وہ تابوت میں بھی نہ تھی۔مگر لاش کی حالت کے متعلق ڈاکٹر بتا سکتا ہے۔مفتی نہیں بتا سکتا۔اگر لاش کی حالت خراب ہو تو اس سے بُرا اثر پڑتا ہے۔فائل مسائل دینی 12۔12۔58/A-32) تابوت یامیت پر کلمه اورقرآنی آیات کی لکھی ھوئی چادر ڈالنا سوال:۔ایک کپڑا ایسا ہے جس پر قرآن کریم کی آیات لکھی ہوئی ہیں جسے مُردے پر ڈال