فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 111 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 111

قربانی کے مسائل قربانی کے مسائل قربانی کے جانور کے لیے یہ شرط ہے کہ بکرے وغیرہ دوسال کے ہوں۔دنبہ اس سے چھوٹا بھی قربانی میں دیا جا سکتا ہے۔قربانی کے جانور میں نقص نہیں ہونا چاہئے لنگڑا نہ ہو۔بیمار نہ ہو۔سینگ ٹوٹا ہوا نہ ہو یعنی سینگ بالکل ہی نہ ٹوٹ گیا ہو۔اگر خول اوپر سے اتر گیا ہواور اس کا مغز سلامت ہو تو وہ ہو سکتا ہے کان کٹا نہ ہولیکن اگر کان زیادہ کٹا ہوا نہ ہو تو جائز ہے۔قربانی آج اور کل اور پرسوں کے دن ہو سکتی ہے لیکن سفر ہو یا کوئی اور مشکل ہو تو حضرت صاحب کا بھی اور بعض بزرگوں کا بھی خیال ہے کہ اس سارے مہینہ میں قربانی ہو سکتی ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ ان دنوں میں تیسرے دن تک تکبیر تحمید کیا کرتے تھے اور اس کے مختلف کلمات ہیں اصل غرض تکبیر و حمید ہے خواہ کسی طرح ہو اور اس کے متعلق دستور تھا کہ جب مسلمانوں کی جماعتیں ایک دوسری سے ملتی تھیں تو تکبیر کہتی تھیں۔مسلمان جب ایک دوسرے کو دیکھتے تو تکبیر کہتے۔اٹھتے بیٹھتے تکبیر کہتے۔کام میں لگتے تو تکبیر کہتے لیکن ہمارے ملک میں یہ رائج ہے کہ محض نماز کے بعد کہتے ہیں اس خاص صورت میں کوئی ثابت نہیں اور یہ غلط طریق رائج ہو گیا۔باقی یہ کہ تکبیر کس طرح ہو یہ بات انسان کی اپنی حالت پر منحصر ہے جس کا دل زور سے تکبیر کہنے کو چاہے وہ زور سے کہے جس کا آہستہ وہ آہستہ مگر آواز کلنی چاہئے۔الفضل ۱۷ اگست ۱۹۲۲ء ) ( الفضل ۱۱ ستمبر ۱۹۵۱ء) قربانی کا فلسفہ اور حکمت لَنْ يَّنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَا ؤُهَا قربانیوں میں یہ حکمت نہیں کہ اُن کا گوشت یا اُن کا خون خدا اللہ تعالیٰ کو پہنچتا ہے بلکہ ان میں حکمت یہ ہے کہ ان کی وجہ سے تقویٰ پیدا ہوتا ہے اور وہ تقوی خدا تعالیٰ کو پسند ہے۔بعض لوگ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ کیا خدا تعالیٰ نعوذ باللہ ہندوؤں کے دیوتاؤں کی طرح خون کا پیاسا اور