فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 106 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 106

1+4 جمعہ کے ضروری احکام چاہے تو اسے اجازت ہے مگر ہم تو جمعہ ہی پڑھیں گے۔میں بھی یہی کہتا ہوں جو شخص چاہے آج جمعہ کی بجائے ظہر پڑھ لے مگر جو ظہر پڑھنا چاہتا ہے وہ مجھے کیوں مجبور کرتا ہے کہ میں بھی جمعہ نہ پڑھوں میں تو وہی کروں گا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم جمعہ ہی پڑھیں گے۔ہمارا رب کیا سخی ہے کہ اس نے ہمیں دو دو (عید) دیں۔یعنی جمعہ بھی آیا اور عید الاضحیہ بھی آئی اور اس طرح دو عید میں خدا تعالیٰ نے ہمارے لئے جمع کر دیں۔اب جس کو دو دو بچپڑی ہوئی چپاتیاں ملیں وہ ایک کو رد کیوں کرے گا وہ تو دونوں لے گا۔سوائے اس کے کہ اسے کوئی خاص مجبوری پیش آ جائے اور اسی لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی ہے کہ اگر کوئی مجبور ہو کر ظہر کی نماز پڑھ لے اور جمعہ نہ پڑھے تو دوسرے کو نہیں چاہئے کہ اس پر طعن کرے اور بعض لوگ ایسے ہوں جنہیں دونوں نمازیں ادا کرنے کی توفیق ہو تو دوسرے کو نہیں چاہئے کہ ان پر اعتراض کرے اور کہے کہ انہوں نے رخصت سے فائدہ نہ اٹھایا۔( الفضل ۱۵ مارچ ۱۹۳۸ء) میں نے عید کے خطبہ میں بیان کیا تھا کہ اگر عید جمعہ کے دن ہو تو اگر چہ نماز ظہر ادا کرنی بھی جائز ہے مگر میں جمعہ ہی پڑھوں گا۔جمعہ کا اجتماع بھی دراصل ایک عید ہی ہے اور اس میں دوسبق دیئے گئے ہیں ایک تو قومی اتحاد کی طرف اس میں توجہ دلائی گئی ہے دوسرے تبلیغ کی طرف۔خطبہ کے لیے جمعہ کی نماز میں ظہر کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ نے دو رکعت کی کمی کر دی۔خطبه جمعه ۱۱ار فروری ۱۹۳۹ء ( الفضل ۱۹ار فروری ۱۹۳۹ء) عید اور جمعہ کا اجتماع شریعت نے اس بات کی اجازت دی ہے کہ اگر عید اور جمعہ اکٹھے ہو جائیں تو جائز ہے کہ جمعہ کی بجائے ظہر کی نماز پڑھ لی جائے۔لیکن یہ بھی جائز ہے کہ عید اور جمعہ دونوں پڑھ لیے جائیں کیونکہ ہماری