فیضان نبوت — Page 65
۶۵ بفتحہ تاؤ کے معنے شہر کے ہوتے ہیں اور مہر کی مرض تصدیق ہوتی ہے اور جس امر کے لئے مہر لگائی جاتی ہے وہ مصدقہ سمجھا جاتا ہے۔پس اس آیت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نبیوں کی شہر قرار دینا نبیوں کے مصدق ہونے کے معنوں میں ہے۔یعنی ان معنوں میں کہ آپ نے معنی کی مطلقہ سے نکاح کو جائز قرار دینے میں تمام نبیوں کی تصدیق کی ہے کیونکہ دنیا میں کوئی ایک بھی نہیں ایسا نہیں گزرا جس کی تعلیم کی رہنے مندی کی مطلقہ سے نکاح کرنا حرام ہو۔پس مخالفین کا یہ اعتراض نبیوں کی تعلیم کے خلاف ہے۔اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فعل ان کی تعلیم کے عین مطابق۔الغرض اس جملہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور مصدق الفین کیش کر کے اس اعتراض کارود کا رد کیا گیا ہے۔یادر ہے کہ خاتم النبین کے یہ معنے قرآن کریم کی تعلیم کے معائمہ نہیں کیو نکہ قرآن کریم میں اور بھی کئی جگہ آنحضرت کو مصدق قرار دیا گیا ہے۔مثلاً آیت کریمیہ :- - وَلَمَّا جَاءَهُمْ رَسُولٌ مِّنْ عِنْدِ اللهِ مُصَدَقَ يما معهم (بقرہ آیت (۱۰) میں نیز آیت کریمہ :۔بن جَاءَ بِالْحَقِّ وَصَدَنَ الْمُرْسَلِينَ - الصفت آت (1) میں بھی آپ کو مصدق قرار دیا گیا ہے۔پس آیت خاتم النبیین میں