فیضان نبوت — Page 62
۶۲ اللہ کے رسول ہیں اور خاتم النبیین ہیں اور اللہ ہر ایک چیز سے خوب آگاہ ہے۔یادر ہے کہ مخالفین نے آنحضرت صلی اللہ دو قسم کے اعتراض تعلیہ حکم پر دوطرح کے اعتراض کئے وسلم تھے۔ایک ابوت کے اثبات کے لحاظ سے۔دوسرے ابوت کی نفی کے لحاظ سے یعنی ایک طرف تو آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کو زید کا باپ قرار دے کر اعتراض کیا بجا لیکہ آپ جسمانی لحاظ سے زید کے باپ نہ تھے۔اور دوسری طرف با وجود یکہ آپ روحانی لحاظ سے تمام مومنوں کے باپ تھے۔ان مخالفین نے آپ کو ابتر کہا پس ان دونوں قسم کے اعتراضوں کی تردید آیت خاتم النبین کے ذریعہ کی گئی ہے۔بلحاظ اثبات البوت اعتراض کی صورت یہ بھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب زید کی مطلقہ سے جو آپ کا منہ بولا بیٹا تھا خدا کے حکم سے نکاح کر لیا تو مخالفین نے اس نکاح کو رسم جاہلیت کے خلاف پا کر اعتراض کیا کہ محمدؐ کا اپنی بہو کے ساتھ نکاح کرنا جائزہ نہیں۔یہ اعتراض در اصل بناء فاسد علی الفاسد کا مصداق تھا کہ پہلے آنحضرت کو زید کا باپ قرار دیا گیا۔پھر باپ قرار دینے کے واسطہ سے زیدہ کو آپ کا بیٹا قرار دیا گیا۔اور پھر زید کے واسطہ سے زید کی بیوی کو آپ کی ہو قرار دیا گیا۔اور پھر آپ کے نکاح