فیضان نبوت

by Other Authors

Page 54 of 196

فیضان نبوت — Page 54

۵۴ زیادہ سے زیادہ یہی ہو سکتا ہے کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم ان نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں جو آپ سے پہلے ہو گزرے ہیں اور وہ بھی ان معنوں میں کہ اب ان کی امتوں کو ان کی پیروی سے کوئی فیض حاصل نہیں ہوگا اگر فیض حاصل ہو گا تو آنحضرت قبلے اللہ علیہ وسلم کی پڑی سے حاصل ہوگا کیونکہ آپ گذشتہ نبیوں کو ختم کرنے والے ہیں نہ کہ اپنے آپ کو۔ا در حدیث میں جو عیسی علیہ السلام عیسی علیات سلام کی آمد ثانی کے دوبارہ آنے کا ذکر ہے۔تو اس سے بھی یہ مراد ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض سے آپ ہی کی امت میں سے ایک عیسے صفت انسان پیدا ہو گا اور انہیں حالات کے تحت پیدا ہو گا جن حالات کے تحت بنی اسرائیل میں علی سے علیہ السّلام مبعوث ہوئے تھے۔اور بخاری کی حدیث اِمَامُكُمْ مِنْكُمْ میں بھی اسی امر کی تصریح ہے کہ امت کا دہ امام امت میں سے ہی پیپ را ہوگا۔اور اخبار نبوی سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالے نے موسی علیہ السلام کی درخواست پر بھی یہی جواب دیا تھا کہ اس امت کا نبی اسی امت میں سے پیدا ہو گا چنانچہ حدیث میں آتا ہے :- قَالَ مُوسَى يَا رَبِّ اجْعَلْنِى نَبِيِّ تِلْكَ الْأُمَّةِ قَالَ نَبِيُّهَا مِنْهَا - (الخصائص الكبرى للسيوطى (ص)