فیضان نبوت

by Other Authors

Page 43 of 196

فیضان نبوت — Page 43

۴۳ ترجمه در ربیع ابن زیاد نے میری دوستی اور شکر دور بیٹھے ایسے شخص کے لئے جو بنی غالب میں آخری یعنی ہمیشہ کے لئے عدیم المثل ہے خرید لیا ہے " یادر ہے کہ یہ ترجمہ مولنا ذو الفقار علی صاحب دیوبندی شارح حماسہ کے قلم سے ہے۔اور مولنا موصوف نے یہاں آخری کے معنے عدیم المثل کے ہی کئے ہیں اور اس میں کیا شک ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کمالات نبوت میں عدیم المثل ہی ہیں۔اسی طرح اُردو زبان میں بھی یہ محاورہ استعمال ہوتا ہے علامہ اقبال اپنے اُستاد و آغ دہلوی کے مرثیہ میں کہتے ہیں نے چل بسا د آغ آہ میت اس کی زیب دوسش ہے آخری شاعر یہاں آباد کا خاموش ہے ہے۔ظاہر ہے کہ یہاں آخری شاعر کے الفاظ زمانی لحاظ سے استعمال نہیں کئے گئے کیونکہ داغ کی وفات کے وقت بھی دہلی کے متعدد شعراء نہ ندہ تھے۔اور ان کی وفات کے بعد بھی دہلی میں کئی شاعر پیدا ہو چکے ہیں۔بلکہ رشی لحاظ سے استعمال کئے گئے ہیں اور ان کا مطلب یہ ہے کہ دہلی کی ٹکسالی زبان میں شعر کہنے والا چوٹی کا شاعر فوت ہو گیا ہے۔پس ان معنوں کی رو سے حدیث کا مطلب یہ ہوگا کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کمالات روحانی کے لحاظ سے تمام انبیاء میں چوٹی کے نبی ہیں اور آپ کی مسجد برکات سماوی کے لحاظ