فیضان نبوت — Page 127
ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے بعد قیامت تک کوئی رسول مبعوث نہیں ہو سکتا۔قوله کیا آنحضرت موسی علیہ السلام سے افضل نہیں ؟ اگر فضل ہیں تو کیا وجہ ہے کہ امت موسویہ میں تو پے در پے رسول آتے لیکن امت محمدیہ میں بقول شما اب تک صرف ایک ہی رسول مبعوث ہوا ؟ کیا اس سے آنحضرت کی افضلیت پر حرف نہیں آتا ؟ اقول جوا با نوض ہے کہ امت موسویہ جیسا کہ تورات اور قرآن سے بت ہے۔نہایت ہی ناہنجار قوم تھی اور اس کی ایمانی اور عملی حالت ت ہی ناقص تھی اس لئے ضروری تھا کہ اس کی تعلیم و تربیت اور صلاح و ہدایت کے لئے لیکے بعد دیگرے رسول مبعوث کئے جاتے یکن ملت اسلامیہ چونکہ خیر امت ہے اور اس میں خیرا الرسل کی قوت رسیدہ کار فرما ہے اس لئے اس کو لمبے عرصہ تک کسی رسول کی ضرورت پیش نہ آئی۔دوسرے۔یہ امر بھی یادرکھنا چاہیئے کہ بنی اسرائیل کے لئے جو نبی بعوث ہوئے ان میں سے ایک بھی موسی علیہ السلام کی پیروی کے نتیجہ ان نبوت کے مقام پر فائز نہیں ہوا بلکہ ان سب کو نبوت کا انعام