فیضان نبوت — Page 113
امتكم أُمَّةً وَاحِدَةً وَ آنَارَ بُكُمْ فَاتَّقُونِ ر مومنون آیت ۵۲ - ۵۳) یعنی اسے رسولو۔پاک چیزیں کھایا کرو۔اور نیک عمل کیا کرو اور میں جانتا ہوں جو تم کرتے ہو۔اور یہ تمہاری انت ہے ایک ہی وقت اور میں ہی تمہارا رب ہوں پس مجھے ہی مشکلات میں ڈھال بنایا کرو۔یا درکھنا چاہیے کہ اس آیت میں الرمل کا لفظ آیا ہے جو جمع ہے اور ایک سے زیادہ رسولوں کے وجود کا متقاضی ہے جس سے ظاہر ہے کہ بعض رسول آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی آنیوالے ہیں۔جو قرآنی شریعت کے متبع ہونگے اور اس کی تجدید کے لئے آئیں گے۔ور نہ کوئی وجہ نہ تھی کہ نزول قرآن کے وقت آنحضرت کو بجائے آیا تھا الرسول کے رجیسا کہ آپ کو قرآن میں کئی جگہ ان الفاظ سے مخاطب کیا گیا ہے، آیا تها الرُّسُل سے تو جمع کا صیغہ ہے مخاطب کیا جاتا۔پس لا محالہ ماننا پڑے گا کہ یہ وہ رسول ہیں جو آنحضرت کے بعد آئیں گے اور ان سب کا آنا امت محمدیہ میں ہوگا۔جیسا کہ وَإِن هَذِهِ أمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً میں ان سب کے لئے ایک ہی اُمت قرار دی گئی ہے۔اور السرسکی سے مراد گذشتہ رسول اس لئے نہیں ہو سکتے کہ ان کی ایک امت نہ تھی بلکہ الگ الگ امتیں تھیں اور بلحاظ نہ ہیب