فیضان نبوت

by Other Authors

Page 81 of 196

فیضان نبوت — Page 81

اور اسحاق نام پر بھی نعمت کا اتمام ہوا تو کیا ابراہیم ! اور اسحاق علیہ السلام کے بعد کوئی نبی نہیں آیا ؟ جب ان کے بعد پے در پے نبی آتے رہے ہیں تو اتمام نعمت کے معنے نبوت کا ختم ہونا کیسے تسلیم کئے جا سکتے ہیں ؟ پس ANALOGEN عَلَيْكُمْ نِعْمَتِی کے یہ معنے نہیں کہ اب امت محمدیہ میں کوئی نبی پیدا نہ ہوگا بلکہ یہ مطلب ہے کہ آئندہ اللہ تعالے امت محمدیہ میں ہی نبی پیدا کرے گا نہ کہ کسی دوسری امت میں۔اللہ تعالے نے قرآن کریم میں نبوت کو نعمت قرار دیا ہے جیسا کہ آیت کریمہ ہے :- وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ يُقَوْمِ اذْكُرُو العمة اللهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أنْبِيَاء وَجَعَلَكُمْ مُلُوكَا - (مائده آیت (۲) یعنی تم اس وقت کو یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا تھا اسے میری قوم ! تم اللہ کی اس نعمت کا شکر ادا کروہ جو اس نے تم پر اس صورت میں کی کہ اس نے تم میں بنی مبعوث کئے اور تمھیں بادشاہ بنایا۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ نبوت ایک نعمت ہے پس تکمیل دین کیے، نتیجہ میں اللہ تعالے کی نعمتوں کا دروازہ اور زیادہ کشادہ ہونا چاہیے