فیضان نبوت

by Other Authors

Page 45 of 196

فیضان نبوت — Page 45

۴۵ ختم نبوت اور قرآن کریم قرآن کریم میں آتا ہے :- ا خَتَمَ اللهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَعَلَى سَمْعِهِمْ (بقره آیت ۲۸ الْيَوْمَ نَحْمُ عَلَى أَفْوَاهِهِمْ وَتُكَلِمُنَا ايديهم - دیس آیت ۶۶ ) -٣ ختَامُهُ مِشك- مطففين) مندرجہ بالا آیات سے ختم کے مشتقات پیش کر کے بعض اوقات کہا جاتا ہے کہ ان آیات میں ختم اور تختم اور ختام کے الفاظ چونکہ مہر کے معنوں میں آتے ہیں اور شہر سے عرض کسی چیز کا بند کرنا ہوتی ہے لہذا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حنا تم النبین یعنی نبیوں کی مہر ہونا نبیوں کے بند کرنے کے معنوں میں ہے۔سو اس کے متعلق یا د رکھنا چاہیئے کہ آیت حکم اللہ علی قُلُوبِهِمْ وَعَلَى سَمْعِهِمْ (بقرہ آیت ہی میں جن لوگوں کا ذکر ہے اور جن کے دلوں اور کانوں پر مہر لگائی گئی وہ تو کافر تھے اور اگر مہر کا کام کسی چیز کو بند کرنا ہی ہے تو چاہئیے تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے کا فرختم ہو جاتے