فیضان نبوت

by Other Authors

Page 23 of 196

فیضان نبوت — Page 23

۲۳ نبی کی بعثت سے قبل لوگ منتشر اور پراگندہ ہوتے ہیں وہ ان کو مرکزیت سے آشنا کرتا ہے اور اپنی قوت قدسیہ سے ان میں حقیقی یگانگت اور سچی الفت پیدا کر کے ایسا خدا نما معاشرہ عالم ظہور میں لاتا ہے جس کو دیکھ کہ فرشتے بھی رشک کرتے ہیں۔وجیہ کے سامنے جو لائحہ عمل نہی انبیاء کی مخالفت کی وجہ انتیش کرتا ہے وہ چونکہ افراطہ تفریط سے پاک ہوتا ہے اس لئے وہ لوگ جو بہیمانہ جذبات کے غلام ہوتے ہیں اسے اپنی طبعی آزادی کے خلاف پاکر اس کی مخالفت کرتے ہیں اور اس کے استیصال کے درپے ہو جاتے ہیں۔حالانکہ انبیاء کی تعلیم کی یہ غرض نہیں ہوتی کہ انسان کے طبعی جذبات کو کچل دیا جائے بلکہ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے، کہ طبعی جذبات کو نقطہ اعتدال پر لا کر انسان کو حقیقی انسان بنایا جائے ایسا انسان جو نہ صرف با اخلاق ہو۔بلکہ با خدا بھی ہو۔آج دنیا میں اگر کوئی شخص انبیاء اء کی تعلیم کے اثرات اللہ تعالے کی عظمت کا قائل ہے یا اخلاقی اصولوں پر کار بند نظر آتا ہے تو یہ نبیوں کی مساعی جمیلہ کا نتیجہ ہے۔امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ آج دسی لوگ ادا کر رہے ہیں جو نبیوں کے پیروکار ہیں۔اور اگر ایسے