فیضان نبوت — Page 22
۲۲ کے ازالہ کے لئے روحانی معالجوں کی ضرورت ہے۔انبیاء کے اوصاف انہی کی ذات خیر و برکت کا سر شمیہ ہوتی ہے اور اس کی تعلیم فلاح دارین کی ضامن جو لوگ اس کی ہدایات پر عمل کرتے ہیں کامیاب ہو جاتے ہیں اور جو عمل نہیں کرتے ناکام رہتے ہیں۔وہ داعی۔ہادی مصلح بشیر نذیر مجھی۔مزکی معلم اور امام ہوتا ہے۔خدا خود اس کی رہنمائی کرتا ہے اور عالم غیب کے اسرار اُس پر کھولتا ہے۔وہ بدیوں سے منزہ اور نیکیوں کا مجتمہ ہوتا ہے اور اس کی تمام زندگی طاعت خالق اور خدمت مخلوق کے لئے وقف ہوتی ہے۔دعوت و تبلیغ سے اس کا مقصد کوئی دنیاوی معاوضہ شہرت۔جاه طلبی جلب زر اور قیام سلطنت نہیں ہوتا بلکہ صرف احکام الی کی بجا آوری اور خلق خدا کی بہبودی اس کے پیش نظر ہوتی ہے۔نبی مناسب وقت پر بھیجا جاتا انبیاء کے اغراض و مقاصد ہے اور جولوگ بیہودہ تو تبات غلط افکار اور قبیح عادات کے خار زاروں میں بھٹک رہے ہوتے ہیں ان کو گلشن عافیت سے ہمکنار کرتا ہے اور انہیں شک کی جگر یقین - جبل کی جگہ علم اور بدا طواری کی جگہ اعمال صالحہ کی پوست عطا کرتا ہے۔اور اپنی روحانی تاثیرات سے ان کو عبودیت خاصہ کی اس بلندی پر پہنچا دیتا ہے جو انسانی پیدائش کی علت غائی ہے۔