فیضان نبوت — Page 18
خلاصہ کلام یہ کہ جس طرح اللہ تعالے نے اپنی بے پایاں رحمت سے انسان کی جسمانی نشوونما کے لئے مختلف سامان پیدا کئے ہیں اسی طرح اس کی روحانی نشو و نما کے لئے بھی مختلف سامان پیدا فرمائے ہیں جن میں سے ایک نبوت کی نعمت بھی ہے تاکہ اس کے جسمانی اور روحانی نظام میں مطابقت قائم رہے اور دنیا کو یقین آجائے کہ وہ خدا جو رب العالمین کہلاتا ہے نہ صرف عالم اجسام کا رب ہے بلکہ عالم ارواح کا بھی رب ہے۔وقال سبحانہ تعالیٰ : ياَيُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوا نِعْمَتَ اللهِ عَلَيْكُمْ هَلْ مِنْ خَالِقِ غَيْرُ اللهِ يَرْزُقُكُم مِّنَ المَاءِ والْأَرْضِ - (فاطر آیت (۴) یعنی اے لوگو۔اللہ تعالیٰ کی جو نعمت تمھیں عطا ہوئی ہے اس کا شکر ادا کرو۔کیا اللہ تعالے کے سوا کوئی اور بھی خالق ہے جو تمہیں روحانی نشو و نما کے لئے آسمان سے رزق دے اور جسمانی نشو و نما کے لئے زمین سے۔یادر ہے کہ نبی خدا کی طرح سے منصب نبوت کے لوازمات بشر اور نذیر بناکر بھیجا جاتا ہے اور وہ بشیر اور انذار کے ذریعہ سے لوگوں کی اصلاح کا فریضہ سرانجام دیتا ہے۔اس کا عالم غیب سے نہایت گہرا تعلق ہوتا ہے وہ غیب کی آوازیں سنتا غیب کی چیزیں دیکھتا اور غیب کی خبریں