فیضان نبوت

by Other Authors

Page 169 of 196

فیضان نبوت — Page 169

فَلْيَصُقُ عَنْ يَسَارِهِ تَلَثاً وَلْيَتَعَوَّذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطِنِ تَلَنَّا وَلَيَتَحَوَّل مَنْ جِنْبِهِ الذي كانَ عَلَيْهِ - درواه مسلم یعنی جب تم میں سے کوئی ناپسندیدہ خواب دیکھے۔تو تین دفعہ اپنی بائیں طرف تھوک دے اور تین مرتبہ خود پڑھکر شیطان سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگے اور میں پہلو پر لیٹا ہوا سے بدل دے۔یاد رکھنا چاہئیے کہ مذکورہ بالا حدیث میں جو شیطانی خواب کیلئے حلم کا لفظ آیا ہے یہ بطور شرعی اصطلاح کے ہے ورنہ علم جس کی جمع احلام ہے لغت کی رُو سے رویاء کے معنوں میں ہی استعمال ہوتا ہے ہاں نور ویاء اللہ تعالے کی طرف سے دکھائی جاتی ہے اس کے لئے صالحہ کا لفظ بطور صفت کے استعمال کیا جاتا ہے تاکہ شیطانی خوابوں اور رحمانی خوابوں میں خط امتیاز قائم رہتے اور آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ اچھا خواب صرف دوستوں سے بیان کیا جائے اس بناء پر ہے کہ دشمن بعض اوقات حسد کی وجہ سے مصیبت کا باعث بھی بن جاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے یوسف علیہ السلام کو ہدایت فرمائی تھی کہ اپنے بدخواہ بھائیوں کو اپنا خواب نہ سنانا کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ حسد کی وجہ سے تیرنے لئے کوئی