فیضان نبوت — Page 141
کے منصب کا یہی مطلب تھا کہ آنحضرت کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔تو پھر چاہیے تھا۔کہ آپ کے بعد دنیا روحانی انحطاط کا شکار نہ ہوتی اور فرقہ بندیوں کا سلسلہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو جاتا اور یہود۔نصاری اور میبود و غیرہ اقوام باہم متحد ہو جائیں۔لیکن بجائے اس کے کہ اغیار کا تفرقہ دور ہوتا خود امت مسلمہ ہی کثیر التعداد فرقوں میں منقسم ہو چکی ہے کیا یہ فرقہ بندیاں سجائے خود کسی نبی کی بعثت کی متقاضی نہیں ؟ علامہ اقبال نے کتنی سچی بات کہی ہے یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے صنم کدہ ہے جہاں لا الہ الا الله زبال جبریل) قوله نا قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت قیامت تک کے لئے مزکی اور معلم میں لہندا تزکیہ اور تعلیم کے لئے اب کوئی جدید بنی نہیں آسکتا۔اقول جوابا عرض ہے کہ جدید نبی سے آپ کی کیا مراد ہے ؟ آیا ایسانی جو آنحضرت کے دین کے بالمقابل کوئی نیا دین پیش کرنے والا ہو ؟ یا ایسا نبی جس کی وحی آنحضرت کی وحی کی تاریخ اور آپ کی اتباع سے منحرف کرنے والی ہو؟ یا جس کا مزکی اور معلم ہونا آنحضرت کے مزکی اور محکم ہونے کے منافی ہو ؟ اگر تو آپ کی جدید نبی سے یہ مراد ہے