فیضان نبوت — Page 123
۱۲۳ ثابت ہو اور اللہ تعالئے بوقت ضرورت جس کو مناسب سمجھے لوگوں کی اصلاح کے لئے کھڑا کر دے۔غرض نبوت کا انعام تو امت کو مل سکتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے قانون اللهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَه- (انعام آینده ۱۲۵) کی رعایت کے تحت ہی مل سکتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی قدیم سے یہی سنت چلی آتی ہے۔کہ وہ بلحاظ فطرت اور بلحاظ زمان اور بلحاظ مکان جس کو بھی اور جب بھی اور میں جگہ بھی مناسب سمجھتا ہے اپنی رسالت کے لئے منتخب کر لیا ہے۔آیت قوله ، يت كريمه يبنى ادم اِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ رُسُلُ مِنْكُمْ يَقُصُّونَ عَلَيْكُمْ آيَاتِي فَمَنِ اتَّقَى وَأَصْلَحَ فَلَا خَوْنَ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (اعراف آیت ۳۶) میں خطاب مہبوط آدم کے وقت کی اولاد آدم سے ہے نہ کہ آنحضرت کے بعد کی اولاد آدم سے لہذا اس آیت کو امکان نبوت کے سلسلہ میں پیش نہیں کیا جا سکتا۔أقول یادر ہے کہ قصونَ عَلَيْكُمْ آیا تی کا جملہ صاف بتا رہا ہے گروہ آنیوالے رسول صرف قرآن کریم کے احکام اور اس کی تعلیمات کو