فیضان نبوت — Page 102
ہونے کی وجہ سے اختلاف رائے ناگزیر نہیں ؟ اگر نا گز یہ ہے تو کیا است میں اختلاف پیدا ہونے کی صورت میں کسی ایسے حق پرست منصف کی ضرورت نہیں جو وحی الہی کی رہنمائی میں حکم اور عدل کے فرائض سرانجام دے؟ پانچواں سوال یہ ہے کہ کیا حل شدہ مسائل ایک عرصہ کے بعد قابل نقل نہیں ہو جاتے ؟ اگر ہو جاتے ہیں تو کیا ان کے حل کے لئے کسی عقدہ کشا کی ضرورت نہیں ؟ چھٹا سوال یہ ہے کہ کیا آپ نئے مسائل حیات پیدا نہیں کہتے اگر ہو سکتے ہیں تو کیا قرآن حکیم سے ان کا حل پیش کرنے کے لئے کسی معیاری شخصیت کی ضرورت نہیں ؟ ساتواں سوال یہ ہے کہ قرآن مجید نے جواد صاف نبی کے بیان کئے ہیں کیا اب دنیا واقعی ان سے مستغنی ہو چکی ہے ؟ مثلاً ے نبی مورد وحی ہوتا ہے کیا اب دنیا کو آسمانی رہنمائی کی ضرورت ہیں سے بنی داعی ہوتا ہے کیا اب دنیا کو خدا کی طرف بلانے کی ضرورت نہیں؟ ے نبی مبلغ ہوتا ہے کیا اب دنیا کو پیغام حق پہنچانے کی ضرورت نہیں ؟ ے نبی ہادی ہوتا ہے کیا اب دنیا کو راہ ہدایت دکھانے کی ضرورت نہیں؟ ے نبی مصلح ہوتا ہے کیا اب دنیا کو اصلاح نفوس کی ضرورت نہیں؟ ے نبی بشیر ہوتا ہے کیا اب دنیا کو بشارتوں کی ضرورت نہیں ؟ ے نبی نذیر ہوتا ہے کیا اب دنیا کو بداعمالیوں کے عواقب سے ڈرا نر