فیضان نبوت — Page 70
کہ محمد صلے اللہ علیہ وسلم کی نرینہ اولاد کوئی نہیں اور آپ ایسے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں جن کا جسمانی رشتہ بقائے نسل کے لئے ضروری ہوتا ہے لیکن بایں ہمہ آپ ابتر نہیں کہلا سکتے کیونکہ آپ صرف محمد ہی نہیں بلکہ رسول بھی ہیں اور آپ کی دو جنتیں ہیں ایک جسمانی یعنی محض محمد ہونے کے لحاظ سے۔اور دوسری روحانی بعینی رسول اللہ ہونے کے لحاظ سے۔گو محمد ہونے کے لحاظ سے آپ کسی مرد کے باپ نہیں لیکن رسول اللہ ہونے کے لحاظ سے آپ تمام مومنوں کے باپ ہیں۔اور رسولوں کو اپنے سلسلہ کی فضاء کے لئے محض ریال کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ ایسے ریبال کی ضرورت ہوتی ہے جو مومن ہوں رسول کی اگر جسمانی اولاد ہو بھی لیکن مومن نہ ہو تو بقائے سلسلہ کے لئے ایسی اولاد کچھ بھی کار آمد نہیں ہو سکتی۔اس کے بریکس اگر ریول کی جسمانی اولاد نہ بھی ہو لیکن روحانی اولاد ہو تو بقائے سلسلہ میں کچھ خلل واقع نہیں ہوتا۔پس مخالفین کے طعن کے جواب میں اللہ تعالے نے آپ کو بحیثیت رسول پیش کر کے اس اعتراض کا قلع قمع کر دیا جو جسمانی ابوت کی نفی کی بناء پر پیدا ہوتا تھا۔واضح رہے کہ آپ کی روحانی ابوت آسیت که یمیر :- النَّبِي أولى بِالْمُؤْمِنِين مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَ ارد اجهُ أُمَّهَاتُهُمْ - (احزاب آیت (( سے بھی ثابت ہے کیونکہ اس آیت میں نبی کی بیویوں کو مومنوں کی بائیں