فیضان نبوت — Page 17
یعنی زمین و آسمان میں جو کچھ پایا جاتا ہے سب کا سب انسان کے لئے پیدا کیا گیا ہے تاکہ وہ قانونِ قدرت سے فائدہ اٹھا کر مخدوم کائنات کا منصب حاصل کر سکے۔مذکورہ بالا آیات سے ظاہر ہے کہ انسان در حقیقت موجودات عالم کا مرکزی نقطہ ہے۔اور اس کو اللہ تعالیٰ نے صاحب اختیار بنایا ہے کہ وہ جس قدر چا ہے اور جس قسم کی چاہے ترقی کرے۔البتہ اس کی روحانی ترقی کو خدا اور رسول کی اطاعت سے مشروط کر دیا گیا ہے ارت در بانی ہے :- وَمَن يُطع الله وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الذِينَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِينَ والصديقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّلِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا - (نساء آیت (٢) یعنی جو لوگ اللہ تعالئے اور اس کے رسول محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کریں گے آئندہ انہیں کو روحانی ترقیات حاصل ہو سکیں گی اور وہی ان لوگوں میں شامل ہوں گے جن پر اللہ تعالے نے انعام کیا ہے یعنی انبیاء اور صدیقین، شہداء اور صالحین میں اور یہ لوگ بہت ہی اچھے رفیق ہیں۔