فیضان نبوت — Page 16
14 یعنی جوش جو شخص اپنی توجہ اللہ تعالے کی طرف پھیر دنیا ہے اور وہ اپنے عمل میں بھی پورا محتاط ہے تو گویا اُس نے ایک محکم جائے گرفت کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔اسلامی نقطۂ نگاہ سے مذہب اور غیر متناہی ترقیات انسان غیر متناہی ترقیات کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔چنانچہ قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقويم (التين آيت ) یعنی انسان کو اعلیٰ سے اعلیٰ استعدادیں دے کو پیدا کیا گیا ہے تاکہ وہ اعلیٰ سے اعلیٰ ترقیات حاصل کر سکے۔پھر فرماتا ہے:۔وَلَقَد كرمنا بني آدم ربنی اسرائیل آیت ١) انسان اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کی وجہ سے کل مخلوقات پر فضیلت رکھتا ہے۔پھر ارشاد ہوتا ہے :- هو الذي جَعَلَكُمْ خَليفَ فِي الْأَرْضِ (فاطرات من یعنی اللہ تعالے نئے انسان کو اپنا جانشین بنا کر دنیا میں بھیجا ہے تاکہ وہ اس کی صفاتِ حسنہ کو ظاہر کررہے۔اسی طرح ایک اور مقام پر فرماتا ہے :- وسخر تكُم مَّا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنه ربا برای (۱۳)