فیضان نبوت — Page 15
۱۵ کیا دنیا کے سارے فقلند مل کر بھی قیام امن کے لیئے اس سے بہتر تعلیم پیش کر سکتے ہیں ؟ ہر گز نہیں۔پس اس فطری تعلیم پراگرلوگ آج بھی عمل کرنا شروع کر دیں تو بلاریب یہ دنیا امن و سلامتی کا گہوارہ بن جائے اور اس کی تمام سیاسی اور معاشی اور معاشرتی مشکلات آن واحد میں حل ہو جائیں اور سارا جہان ایک ایسے کنبہ کی شکل اختیار کر جائے جس کا ہر فرد شفقت و محبت میں اپنی نظیر آپ ہو۔خلاصہ کلام یہ کہ مذہب فتنہ و فساد کا باعث نہیں بلکہ ہر لحاظ سے امن وسلامتی کا موجب ہے۔اس لحاظ سے بھی کہ مذہب دنیا کو امن وسلامتی کی تعلیم دیتا ہے اور اس لحاظ سے بھی کہ اس کے ذریعہ ایک ایسا نظام اخوت قائم ہوتا ہے جو فتنہ وفساد کو بیخ وبن سے اُکھاڑ پھینکتا ہے اور اس لحاظ سے بھی امن وسلامتی کا موجب ہے کہ جب لوگوں کی بداعمالیوں کی وجہ سے دنیا پر خدا کا عذاب نازل ہونا ہے تو مومن اس عذاب سے امن میں رہتے ہیں۔اور پھر اس لحاظ سے بھی مذہب امن و سلامتی کا موجب ہے کہ اس کے ذریعہ نسان اللہ تعالے کی حفاظت میں آجاتا ہے۔اور زمانہ کے حوادثات اسے ہلاک نہیں کر سکتے۔ارشادِ ربانی ہے:- وَمَن سَهُ وَجْهَهُ إِلَى اللَّهِ وَهُوَ مُحْسِنُ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى (لقمان آیت (۲۳)