فیضان نبوت — Page 172
۱۷۲ تَنَزَّلُ عَلَى كُلِّ أَفَاكِ أَثِيمٍ میں اسیم کے لفظ سے ظاہر ہے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ ارشاد فرمایا ہے کہ مگر وہ خواب دیکھنے پر پہلو بدل لیا جاتا۔تو یہ پہلو کا بدلنا بھی در اصل ایک طرح کا اظہارہ نفرت ہی ہے جیسا کہ تھوکنے کے فعل میں ایک طرح کا اظہار نفرت پایا جاتا ہے۔اور یہ ارشاد اس لئے بھی ہو سکتا ہے کہ پہلو بدلنے سے خیالات کی رو بدل جائے اور اس لئے بھی کہ بعض اوقات سیدھا لیٹنے سے سینے پر ہاتھ آجاتا ہے جس کے نتیجہ میں قلب پر بوجھ پڑتا ہے اور متوحش خوابوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔اور اگر اس وقت پہلو بدلی لیا جائے تو وہ سلسلہ رک جاتا ہے۔اسی طرح بائیں پہلو پر سونے سے بھی قلب پر بوجھ پڑتا ہے اور یہ بوجھ بعض اوقات مکروہ خواب کا بھی باعث بن جاتا ہے۔حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ دائیں پہلو پر خواب استراحت فرما یا کرتے تھے۔کیا عجب کہ یہ طریق رحمانی خوابوں کے قریب کرنے والا اور شیطانی خوابوں سے دور رکھنے والا ہو۔کیونکہ دائیں بائیں کا تعلق بعض حالات میں خیر اور شہر سے بھی ہوتا ہے جیسا کہ قرآن کریم میں نیکی والوں کو اصح ہے الیمین اور بدی والوں کو اصحاب استعمال قرار دیا گیا ہے۔یہاں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیئے کہ بعض اوقات اللہ تعالیٰ