فیضان نبوت — Page 155
۱۵۵ فَيُمْسِكُ التي قضى عَلَيْهَا الْمَوْتَ (زمر آیت ۴۳) یعنی جس پر موت وارد ہو جائے۔وہ دنیا میں دوبارہ نہیں آسکتا۔دور ہے۔اگر مسیح اسرائیلی امت محمدیہ کی طرف رسول ہو کر آئیں تو اس سے خدا کے کلام کی تکذیب لازم آتی ہے کیونکہ قرآن مجید میں ان کو رَسُولاً إلى بني استر اونیل ( آل عمران آیت ۵۰) کہا گیا ہے کہ وہ صرف بنی اسرائیل کے لئے رسول تھے۔اور پھر یہ امر بھی غور طلب ہے کہ کیا زمانہ قدیم کا قومی نبی عہد جدید کے عالمی تقاضوں کو پورا کر سکتا ہے ؟ آخر بچپن کا لباس جوانی میں تو کام نہیں آیا کرتا۔تیر کے۔آنحضرت نے جو صلیہ سیم محمدی کا بیان فرمایا ہے وہ اور ہے اور جو حلیہ مسیح اسرائیلی کا بیان فرمایا ہے وہ اور ہے انجاری جلد ۲) جس سے صاف ظاہر ہے کہ مسیح محمدی اور ہے اور مسیح اسرائیلی اور یہ کیونکہ ایک شخص کے دو کیلیے نہیں ہو سکتے۔چوتھے۔آنحضرت نے آنیوالے مسیح موعود کے بارے میں واضح طور پر نشاندہی کر دی ہے کہ ما مكر منكم (بخاری) کہ وہ تمہارا امام تم میں سے ہی پیدا ہو گا۔یعنی آنیوالا مسیح موعود امت مسلمہ کا ہی ایک فرد اور آنحضرت کا ہی روحانی فرزند ہو گا پیس