فیضان نبوت — Page 126
۱۲۶ آیات میں يُبنى ادھر کے الفاظ سے اولاد آدم کو مخاطب کیا گیا ہے۔مثلاً يبني آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَ لا تُسْرِفُوا - (اعراف آیت ۳۲) یعنی اسے آدمزاد و امسجدوں کے پاس زیست کے سامان اختیار کر لیا کرو اور کھاؤ اور پیو اور اسراف نہ کرو یہ تو کیا ان خطابات میں صرف وہی اولاد آدھ شامل ہے جو آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم سے پہلے ہو گزری ہے ؟ یا آپ کے بعد آنیوالی اولاد آدم بھی شامل ہے ؟ اگر کہا جائے کہ آنحضرت کے بعد کی اولا آدم بھی شامل ہے تو میں پوچھوں گا کہ کیوں اور کن وجوہ کی بناء پر شامل ہے ؟ اگر ان احکامات کی وجہ سے شامل ہے جن پر عمل پیرا ہونے کی سب اولاد آدم کو ضرورت ہے تو بوجہ ضرورت آنحضرت کے بعد کی اولاد آدم میں نبی کیوں نہیں آسکتا ؟ اگر کیا جائے کہ آنحضرت ہی قیامت تک کافی ہیں تو میں عرض کروں گا کہ با وجود کافی ہونے کے آپؐ نے یہ کیوں فرمایا کہ میری امت کے تہتر فرقے ہو جائینگے اور رفع اختلافات کے لئے خدا کی طرف سے ایک مسیح موجود آئے گا جو حکم اور عدل ہوگا ؟ جب آنحضرت اپنے کافی ہونے کے باوجود رفع اختلافات کے لئے ایک مسیح موعود کی پیش گوئی فرما چکے ہیں جو نبی اللہ ہو گا ر صحیح مسلم ، تو یہ کیسے باور کیا جائے کہ کافی