فیضان نبوت — Page 124
ہی پیش کریں گے۔چنانچہ يَقُصُّونَ کا قرینہ اسی پر دال ہے اور ان کی بعثت کی غرض تقوی اور اصلاح ہوگی جس پر فمن اتقی و اصلاح کے الفاظ دلالت کر رہے ہیں جس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ وہ رسول ہیں جو آنحضرت کی امت میں آنے والے ہیں اور جو شریعت اسلامیہ کے قیام کے لئے مبعوث ہونگے۔اور بنی ادمر کے خطاب کو مہبوط آدم کے زمانہ کی اولاد آدم سے مختص کرنا اس وجہ سے بھی درست نہیں کہ حدیث میں نوح علیہ السلام کو اول الرسل قرار دیا گیا ہے۔دنجاری، پس مبوط آدم کے وقت کی اولاد آدم میں اتنے رسول کیسے تسلیم کئے جاسکتے ہیں جو الرسل کے صیغہ جمع کے مصداق ہوں۔اور پھر یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ جو رسول ہبوط آدم کے زمانہ کے بعد مبعوث ہوئے ہیں کیا وہ اولاد آدم میں مبعوث نہیں ہوئے ؟ جب اولاد آدم میں ہی مبعوث ہوتے ہیں تو یہ خطاب سوط آدم کے وقت کی اولاد آدم سے کیسے مختص کیا جا سکتا ہے ؟ اور اگر بنی آدم سے مراد آدم علیہ السلام سے لے کہ آنحضرت تک کی اولاد آدم سمجھی جائے۔بائیں وجہ کہ ان میں رسول آتے رہے ہیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ سلسلہ آگے کے لئے کیوں رک گیا ؟ کیا آنحضرت سے پہلے کی اولاد آدم اس قابل تھی کہ خدا ان میں رسول بھیجتا رہے اور آنحضرت کے بعد کی اولاد آدم اس قابل