فیضان نبوت — Page 117
116 غور فرمائیے کیا مسلمانوں کی یہ زبوں حالی بجائے خود اس امر کا ثبوت نہیں کہ ماموروں کا سلسلہ منقطع نہیں ہوا اور نہ ہونا چاہئیے ؟ اور یہ معنے نعت کے خلاف اس لئے ہیں کہ لغوی لحاظ سے خاتم بفتحہ تاء کے معنے مہر کے ہیں نہ کہ ختم کرنے والا کے کیونکہ یہ ہم کہ ہے نہ کہ اسم فاعل اور خاتم جب کسی جمع کے صیغے کی طرف مضان ہو۔مثلاً خاتم الشعراء - خاتم المصنفین اور خاتم الاولیاء وغیرہ تو اس کے معنے عربی زبان کے محاورہ میں افضل کے ہوتے ہیں پس آیت کریمییه : مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ ولكن رسول اللهِ وَخَاتَمَ النَّبيِّنَ کے یہ معنے نہیں کہ محمد رسول اللہ نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں۔اور آپؐ کے بعد کوئی نہیں نہیں آسکتا۔بلکہ یہ معنے ہیں کہ آپ حیثیت محمد جسمانی لحاظ سے تو کسی مرد کے باپ نہیں مگر بحیثیت رسول روحانی لحاظ سے ضرور باپ ہیں لیکن یہاں یہ سوال اُبھر کر سامنے آجاتا ہے کہ بحیثیت رسول تو ہر رسول ہی اپنی امت کا باپ ہوتا ہے۔پھر اس معاملہ میں آپ کی کیا خصوصیت ہوئی ؟ تو اس کا جواب خاتم النبین کے الفاظ میں دیا گیا ہے کہ آپ صرف رسول ہی نہیں بلکہ رسولوں کے سرتاج ہیں اور آپ کی شان ابوت زمانی اور میانی لحاظ سے ہی نہیں اہ حضرت امام فخر الدین رازی لکھتے ہیں :۔دیکھیں اگلے صفتہ پور)