فیضان نبوت — Page 82
۸۲ تھا نہ کہ بند۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ تعالے بعض اوقات اپنی نعمتیں چھین بھی لیتا ہے۔لیکن یہ اس صورت میں ہوتا ہے کہ جب کسی قوم کی حالت حد سے زیادہ بگڑ جاتی ہے جیسا کہ قرآن مجید میں آیا ہے:- ذلك بِانَّ اللهَ لَمْ يَكُ مُفَيّرًا نِعْمَةَ انْعَمَهَا عَلَى قَوْمٍ حَتَّى يُغَيّرُوا مَا بِأَنفُسِهِم ر انفال آیت ۵۴) یعنی اللہ تعالے جب کسی قوم پر کوئی نعمت نازل کرتا ہے تو اس نعمت کو بدلنا نہیں جب تک کہ وہ قوم اپنی حالت کو خود نہ بدل دے۔لیکن خیرات کے متعلق یہ گمان نہیں کیا جا سکتا کہ وہ ساری کی ساری اس قدر بگڑ جائے گی کہ اللہ تعالے دائمی طور پر اس کو اپنی نعمتوں سے محروم کر دے گا۔اور اگر کہا جائے کہ تشریعی نبوت کیوں بند ہو گئی آخر وہ بھی تو نعمت ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ تشریعی نبی اس وقت آتا ہے جب سابقہ شریعت ناقص اور نا مکمل ہو یا محترف و مبدل ہو چکی ہو قرآنی شریعت نہ ناقص اور نامکمل ہے اور نہ ہی خدائی وعدہ کے مطابق محترف و مبدل ہو سکتی ہے۔اس لئے کوئی تشریعی نبی نہیں آسکتا۔لیکن غیر تشریعی نبی اس وقت مبعوث ہوتا ہے جب دنیا میں ضلالت و