فیضان نبوت — Page 64
۶۴۔۔۔۔آیت موصوفہ کا دوسرا حملہ وَلكِنْ رَسُولَ اللهِ ہے جس میں آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کو بطور رسول پیش کر کے اس اعتراض کی تردید کی گئی ہے اور وہ اس طرح کہ رسول۔خدا کا پیغام یہاں ہوتا ہے اور رسول کے ذریعہ سے ہی خدا اپنی مرضی دنیا پر ظاہر کرتا ہے اور جو نمونہ خدا کا رسول اپنے عمل سے پیش کرتا ہے۔حكم نقد كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ را جز آب آیت (۲۲) و سی لوگوں کے لئے دستور العمل قرار پاتا ہے۔اور اُسی کی بناء پر کہا جا سکتا ہے کہ یہ فعل جائز ہے یا ناجائز۔میں آنحضرت کو اس دوسرے جملہ میں رسول اللہ کی حیثیت سے پیش کر کے لوگوں کے اعتراض کا یوں ر د فرمایا کہ کیا انہیں معلوم نہیں کہ محمد خدا کا رسول ہے اور خدا کا رسول نفسانی خواہش کے تحت کوئی کام نہیں کیا کرتا بلکہ وہی کچھ کرتا ہے جو خدا کی طرف سے اُسے کرنے کو کہا جاتا ہے۔پس خدا کے رسول کا متبقی کی مطلقہ سے نکاح کرنا حیثیت منصب رسالت قابل اعتراض نہیں ہو سکتا۔خصوصا ایسا اختراض جو رسم جاہلیت کی بناء پر ہو اس کا وجود تو خدا کے رسول کے فعل کے بالمقابل کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتا۔آیت موصوفہ کا تیسرا جملہ وَخَاتَمَ النَّبِيِّنَ ہے۔جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ANALGET TONGUE النش کر یکے اس اعتراض کی تردید کی گئی ہے اور وہ اس طرح کے خاتم