فیضان نبوت — Page 63
۶۳ کو جو زید کی اس مطلقہ بیوی سے ہوا ہدف اعتراض بنایا گیا جس کی اس آیت میں تردید کی گئی ہے۔اور اس اعتراض کو غلط قرارہ دے کو نکاح کو جائزہ قرار دیا گیا ہے۔چنانچہ آیت کے پہلے فقره ما جواب کی مختلف صور میں كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ سے اس اعتراض کی تردید اس طرح فرمائی گہ جب محمد عمر میں سے کسی مرد کا باپ ہے ہی نہیں تو زیدہ محمدؐ کا بیٹا کس طرح ہوا۔اور جب زید محمد کا بیٹا ہے ہی نہیں تو زید کی مطلقہ بیوی محمد پر حرام کیسے ہو گئی ؟ کیونکہ عقل سلیم اور فطرت صحیحہ اس بات کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے کہ جو شخص بکر کے نطفہ سے ہو اس کا باپ خالد کو قرار دیا جائے۔پس زید جو محمدؐ کے نط سے نہیں ہے محمد اس کا باپ نہیں ہوسکتا اور جب باپ نہیں ہوتا تو نیچے کا واسطه در واسطه سلسلہ باطل ہو جانے کی وجہ سے باعث اختر احق نہ رہا۔الغرض اس پہلے فقرہ میں عقل اور فطرت کی رو سے جواب دیا گیا ہے کہ جب محمد زید کا باپ ہے ہی نہیں تو زید محمد کا بیٹا کیونکر ہو سکتا ہے اور جب زید بیٹا نہیں تو زید کی بیوی محمد کی ہو کیونکر ہو سکتی ہے اور جب زید کی بیوی محمدؐ کی بہو ہے ہی نہیں تو وہ مطلقہ ہونے کے بعد محمد پر حرام کیسے ہوگئی ؟