فیصلہ قرآن و سنت کا چلے گا کسی ایرے غیرے کا نہیں

by Other Authors

Page 6 of 28

فیصلہ قرآن و سنت کا چلے گا کسی ایرے غیرے کا نہیں — Page 6

ہیں۔6 پہلو میں کھڑا ہوتا تو قرب کو ظاہر کرتا ہے نہ کہ مرتبے کی برابری کو۔جس طرح ایک بچہ باپ کے پہلو میں کھڑا ہوتا ہے۔اس قربت کو اناجیل کے ایسے محاورے ظاہر کرتے ہیں کہ جن میں لکھا ہے کہ مسیح خدا تعالٰی کے دائیں ہاتھ بیٹھ گئے چنانچہ دیکھیں :- متی باب ۲۶، آیت ۶۴ مرقس باب ۲۶ آیت ۱۹ لوقا باب ۲۲ آیت ۲۹ و غیره و غیره حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کا کلام جماعت احمدیہ پر حجت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔لیکن جو لوگ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی تحریرات سے واقف ہیں وہ کامل یقین رکھتے ہیں کہ آپ حضرت مرزا صاحب کو کبھی خواب و خیال میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم مرتبہ نہیں سمجھتے تھے اور ایسے خیال کو کفر قرار دیتے تھے۔پس " پہلو " سے بیان میں صرف حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے قرب کا مضمون بیان کیا گیا ہے کہ یہ مقدر تھا کہ باقی لوگ جہاں پیچھے پیچھے آرہے تھے امام مہدی کو خدا تعالی کمال خلوص کے ساتھ متابعت میں قدم مارنے کی برکت سے اتنا قریب کر دے گا کہ جیسے ایک ہونہار شاگرد اپنے استاد کے پہلو میں چلتا ہے یا ایک فرمانبردار بیٹا اپنے بزرگ باپ کے پہلو میں چلنے کی سعادت پاتا ہے بعینہ حضرت مرزا صاحب اپنے آقا و مولی حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں کھڑے ہونے کی سعادت پاگئے۔پس اگر یہ قابل اعتراض ہے تو پھر خدا کے پہلو میں اس کے دائیں ہاتھ بیٹھنے پر اس سے بھی زیادہ اعتراض پیدا ہوتا ہے۔بادا صاحب نے کتاب کلمہ: الفصل صفحہ ۱۰۵ سے یہ عبارت تحریر کی ہے۔اس صورت میں کیا اس بات میں کوئی شک رہ جاتا ہے کہ قادیان میں اللہ تعالی نے پھر محمد صلعم کو اتارا تا کہ اپنے وعدہ کو پورا کرے " معزز قارئین! یہ تو ان انبیاء علیم السلام کی عظمت شان کی دلیل ہے کہ جن کی ایک اور بعثت بھی مقدر ہوتی ہے جیسا کہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں " و اعظم الانبياء شانا من له نوع اخر من البعث ايضا و ذالك ان يكون مراد الله تعالى فيه سببالخروج الناس من الظلمات الى النور وان