فیصلہ قرآن و سنت کا چلے گا کسی ایرے غیرے کا نہیں — Page 7
۔7 يكون قومه خير امه اخرجت للناس فيكون بعث يتناول بعثا اخر " حمتہ اللہ البالغہ - جلد اول باب حقیقته النبوة وخواصها ) کہ شان میں سب سے بڑا ئی وہ ہے جس کی ایک دوسری قسم کی بعثت بھی ہو اور وہ اس طرح ہے کہ مراد اللہ تعالی کی دوسری بعثت میں یہ ہے کہ وہ تمام لوگوں کو ظلمات سے نکال کر نور کی طرف لانے کا سبب ہو۔اور اس کی قوم خیر امت ہو جو تمام لوگوں کیلئے نکالی گئی ہو۔لہذا اس نبی کی پہلی پشت دوسری بعثت کو بھی لئے ہوئے ہو گی۔اس پہلو سے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سب انبیاء سے بڑھ کر بلند ، عظیم اور اعلیٰ مقام عطا ہوا ہے۔کہ خدا تعالیٰ نے آپ کی دوسری بعثت کا خود قرآن کریم میں وعدہ کرتے ہوئے فرمایا ہے۔هو الذي بعث فى الاميين رسولا منهم يتلوا عليهم ابتد ويزكيهم و يعلمهما لكتاب والحكمته وان كانوا من قبل لفي ضلل مبين - وآخرين منهم لما يلحقوا بهم وهو العزيز الحكيم ( سورة الجمعه ۴۰۳) ترجمہ : وہ خدا ہے جس نے ان پڑھوں میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا۔ان پر وہ اسکی آیتیں پڑھتا ہے اور ان کو پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے اگر چہ وہ لوگ اس سے پہلے صریح گمراہی میں پھنسے ہوئے تھے۔اور ان کے سوا ایک دوسری قوم میں بھی (وہ اسے بھیجے گا ) جو ابھی تک ان سے طبی نہیں اور وہ غالب اور حکمت والا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جب سورۃ جمعہ کا نزول ہوا تو حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ہم لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہی بیٹھے ہوئے تھے۔عرض کی۔یا رسول اللہ ! یہ " آخرین " کون لوگ ہیں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہیں دیا اور خاموش رہے۔پھر وہی سوال کیا گیا مگر آپ پھر خاموش رہے۔چنانچہ جب تیسری مرتبہ وہی سوال کیا گیا تو حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ جو آپ کے ساتھ ہی بھٹے ہوئے تھے ، کے کندھے پر آپ نے ہاتھ رکھا اور فرمایا :- لو كان الايمان عند الشرب الناله رجل من هولاء