فیصلہ قرآن و سنت کا چلے گا کسی ایرے غیرے کا نہیں — Page 14
14 لئے کچھ شک نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان ہر وقت بڑھ رہی ہے اور بڑھتی رہے گی اور خدا کے وسیع خزانوں میں کسی چیز کی کمی نہیں پس میں نے صرف یہی کہا کہ یہ سینڈ نا محمد مصطفیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کی برکات و فیوض کا نزول پھر ہو رہا ہے اور آپ کے اترنے سے یہی مراد ہو سکتی ہے اور آپ کی شان پہلے سے بھی بڑھ کر ظاہر ہو رہی ہے۔اس شعر میں کسی دوسرے وجود کا مطلق ذکر نہیں ہے بلکہ اسی نظم میں آخری شعریہ ہے۔غلام احمد مختار ہو کر یہ رتبہ تو نے پایا ہے جہاں میں یعنی حضرت مرزا غلام احمد علیہ الصلوۃ والسلام نے جو رتبہ مسیح موعود ہونے کا پایا ہے وہ حضرت احمد مجتبیٰ محمد مصطفی کی غلامی کے طفیل اور ان کی اتباع کا نتیجہ ہے۔" الفضل ۱۳ اگست ۱۹۴۴ء ) ظاہر ہے کہ یہ مفہوم قابل اعتراض نہیں۔اگر پھر بھی کوئی کہے کہ یہ مفہوم بعد میں شاعر نے بنالیا ہے اور دراصل اس کا اصل مفہوم وہی تھا جو بظاہر دکھائی دیتا ہے اور جس پر باوا صاحب نے حملہ کیا ہے تو بے شک ایسا مجھے مگر اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا کہ شاعر نے خود جو تشریح پیش کی ہو رہی دراصل اہل علم کے نزدیک قابل قبول ہوا کرتی ہے اور اگر یہ بات بھی کوئی تعلیم نہیں کرتا تو اکمل صاحب کی طرف گستاخی منسوب کر کے ان پر بے شک لعن طعن کرے لیکن ان کی طرف منسوب شدہ گستاخی کو ہرگز جماعت احمدیہ کی طرف منسوب کرنے کا اسے حق نہیں ہم ایک بار پھر یہ اعلان کرتے ہیں کہ اگر باوا صاحب کے اخذ کئے ہوئے معانی درست ہیں تو یقیناً یہ شعر لعنت اور ملامت کا سزاوار ہے لیکن احمدیت ہرگز اس لعنت کا نشانہ نہیں بن سکتی۔--2- ہارا صاحب نے حضرت مرزا صاحب کے ایک مکتوب سے حسب ذیل عبارت سیاق وسباق سے علیحدہ کر کے بطور اعتراض تحریر کی ہے: آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور آپ کے صحابہ عیسائیوں کے ہاتھ کا پنیر کھا لیتے تھے حالانکہ مشہور تھا کہ سور کی چربی اس میں پڑتی ہے۔" (مكتوب الفضل قادیان ۲۲ فروری ۶۱۹۲۴ )